ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت نے خطے میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی قسم کے مذاکرات میں حصہ نہیں لیا ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کوئی ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کی بات کرنا دراصل شکست کا اعتراف کرنے کے مترادف ہے۔
اس سے قبل ایرانی سرکاری ٹی وی کے انگریزی چینل نے ایک نامعلوم عہدیدار کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تہران کے پاس لڑائی ختم کرنے کے لیے اپنے الگ مطالبات موجود ہیں۔
پاکستان کے دو عہدیداروں نے، جنہوں نے امریکی منصوبہ ایران تک پہنچایا تھا، اس 15 نکاتی تجویز کی تفصیلات پر بات کی تھی۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے ان تجاویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران درپردہ امن مذاکرات میں شامل ہے۔ ریپبلکن ارکان کانگریس کے لیے منعقدہ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی مذاکرات کار شدید دباؤ میں ہیں اور ڈیل کرنا چاہتے ہیں، تاہم انہیں اپنے ہی لوگوں کی جانب سے مارے جانے کا خوف ہے جس کی وجہ سے وہ عوامی سطح پر مذاکرات کا اعتراف کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
ایران نے ان امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کے خلاف اپنے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے تحت جنگ بندی کے لیے تیار نہیں ہے۔
پاکستان اس وقت معاشی عدم مساوات کی ایک ایسی خطرناک لہر کی زد میں ہے…
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران خلیج میں جاری جنگ کے…
پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب آرگنائزر عالیہ حمزہ کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا…
بی بی سی نے گوگل کے سابق ایگزیکٹو میٹ برٹن کو اپنا نیا ڈائریکٹر جنرل…
کوئٹہ میں نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں…
ضلع ٹانک میں محکمہ انسداد دہشت گردی نے ایک اہم آپریشن کے دوران کالعدم ٹی…