یروشلم: اسرائیلی پولیس کی جانب سے کیتھولک کارڈینل کو چرچ آف ہولی سیپلکر جانے سے روک دیا گیا

یروشلم میں لاطینی پیٹریاک کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیلی پولیس نے صدیوں میں پہلی بار پام سنڈے کے موقع پر چرچ آف دی ہولی سیپلچر میں مذہبی رسومات کی ادائیگی سے روک دیا۔ کارڈینل پیئر بتیستا پیزابالا اور فرائیر فرانسسکو ایلپو کو اس وقت روکا گیا جب وہ اس چرچ کی جانب جا رہے تھے جسے عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کی مصلوبیت اور دوبارہ جی اٹھنے کا مقام مانا جاتا ہے۔

اسرائیلی پولیس کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے پیش نظر یروشلم کے قدیم شہر میں واقع تمام مقدس مقامات بشمول عیسائیوں، مسلمانوں اور یہودیوں کے مقامات عبادت کو زائرین کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے دعوی کیا کہ ان مقامات پر ہنگامی صورتحال میں امدادی گاڑیوں کی رسائی ممکن نہیں، جس کے باعث انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اسی لیے پیٹریاک کی جانب سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

اس سال جاری کردہ ان پابندیوں کے باعث عیسائی، مسلمان اور یہودی اپنے مذہبی تہوار ایسٹر، رمضان اور فسح روایتی انداز میں نہیں منا سکے۔ مسجد اقصیٰ رمضان کے دوران بڑی حد تک خالی رہی جبکہ فسح کے قریب آنے کے باوجود ویسٹرن وال پر بھی زائرین کی تعداد انتہائی کم ہے۔ پیٹریاک کے ترجمان فرید جبران کے مطابق پولیس کو آگاہ کیا گیا تھا کہ عبادت نجی حیثیت میں اور بند دروازوں کے پیچھے ہوگی، تاہم اس کے باوجود پولیس نے رسائی نہیں دی۔

اس اقدام پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے مذہبی رہنماؤں کو روکنے کے عمل کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اسرائیلی سفیر کو طلب کریں گے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے یروشلم کے مقدس مقامات کے تقدس کی پامالی میں تشویشناک اضافہ قرار دیا ہے۔

مقامی رہائشیوں اور مذہبی حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے ان پابندیوں کا اطلاق غیر منصفانہ اور غیر مستقل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں ایک جانب مذہبی رسومات پر قدغن لگائی گئی، وہیں کچھ مقامات پر استثنیٰ بھی دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب ایران کے ساتھ جنگ کے دوسرے مہینے میں داخل ہونے پر پوپ لیو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ خدا ان رہنماؤں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جو جنگیں شروع کرتے ہیں اور جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر اور وزارت خارجہ کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

جنوبی لبنان میں صحافیوں کے قتل پر روس اور فرانس کا تحقیقات کا مطالبہ

روس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے میں تین صحافیوں کی ہلاکت کو قتل…

1 منٹ ago

افغانستان میں شدید موسم کی تباہ کاریاں، 17 افراد ہلاک اور درجنوں مکانات تباہ

افغانستان کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں، سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات کے نتیجے…

1 گھنٹہ ago

جنگ شروع کرنے والے حکمرانوں کی دعائیں خدا قبول نہیں کرتا، پوپ فرانسس

پوپ لیو نے اتوار کے روز سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے…

2 گھنٹے ago

سعودی وزیر خارجہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، خطے میں امن و استحکام پر زور

وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود…

3 گھنٹے ago

یروشلم: اسرائیلی پولیس کی جانب سے کیتھولک کارڈینل کو چرچ آف ہولی سیپلکر جانے سے روک دیا گیا

یروشلم میں لاطینی پیٹریاارک کو سینکڑوں برسوں میں پہلی بار چرچ آف دی ہولی سیپلکر…

3 گھنٹے ago

لکی سیمنٹ کی جانب سے خیبر پختونخوا میں خصوصی افراد میں 110 وہیل چیئرز کی تقسیم

لکی سیمنٹ نے خیبر پختونخوا کے علاقے پیزو میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران…

3 گھنٹے ago