پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور مسیحی برادری کی عبادت پر اسرائیلی پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ تک رسائی سے روکنا اور مسیحی مذہبی رہنماؤں کو مقدس چرچ میں داخلے سے منع کرنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ مشترکہ اعلامیہ پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں اسرائیلی اقدامات کو بیت المقدس کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کا احاطہ مکمل طور پر مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے اور اس کا انتظام اردن کا محکمہ اوقاف سنبھالتا ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل فوری طور پر مسجد کے دروازے کھولے، پرانے شہر میں عائد پابندیاں ختم کرے اور عبادت گزاروں کو بلا روک ٹوک رسائی یقینی بنائے۔
اعلامیے کے مطابق مسجد اقصیٰ کو مسلسل تیس دن تک بند رکھنا، بشمول ماہ رمضان کے دوران، مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی ہے جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو مقدس مقامات کے تقدس کی پامالی اور غیر قانونی اقدامات سے روکنے کے لیے اپنا موثر اور دو ٹوک کردار ادا کرے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے…
پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی سفارتی…
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز زبردست تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور سرمایہ…
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے امریکی فوجیوں کے لیے دعائیں کرنے کے عمل کا دفاع…
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان بھر میں فضائی آپریشن بری طرح متاثر…
ایچ بی او نے ہیری پوٹر سیریز کے پہلے سیزن کی ریلیز سے قبل ہی…