ایران کی عدلیہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ دشمن ممالک کے ساتھ جاسوسی یا تعاون کے مرتکب افراد کو سزائے موت اور تمام اثاثوں کی ضبطی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ سخت اقدام امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے ایک ماہ مکمل ہونے پر اٹھایا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق ایسی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا جو دشمن کو اہداف کی نشاندہی میں مدد دے سکیں، انٹیلی جنس تعاون کے زمرے میں آئے گا۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران حساس مقامات کی فلم بندی، حکومت مخالف مواد پھیلانے اور دشمن کے ساتھ تعاون کے الزامات میں ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اٹھائیس فروری کو ایران پر حملے کے بعد سے جاری اس تنازع نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جنگ کے باعث اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ توانائی کی سپلائی میں خلل اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
عدالتی ترجمان نے واضح کیا کہ گزشتہ برس منظور ہونے والا قانون ان تمام آپریشنل، انٹیلی جنس اور میڈیا سرگرمیوں پر لاگو ہوتا ہے جنہیں امریکا اور اسرائیل جیسے دشمن ممالک کی حمایت تصور کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غلط معلومات کے ذریعے خوف پھیلانے والوں کو قید کی سزا دی جائے گی اور جنگی حالات میں ان سزاؤں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
حکام اب تک اس نوعیت کے مقدمات میں دو سو فرد جرم عائد کر چکے ہیں۔ ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ملزمان کے اثاثوں کی نشاندہی اور ضبطگی کا عمل جاری ہے اور قانون کے نفاذ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…