میانمار کے سابق انٹیلیجنس چیف یے ون او کو فوج کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا

میانمار کی فوج کے سابق انٹیلی جنس چیف جنرل یے ون او کو ملک کا نیا کمانڈر ان چیف مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب میانمار کی فوج ملکی سیاست پر دہائیوں سے چھائی ہوئی ہے اور اس عہدے کو ملک کے طاقتور ترین منصبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

یے ون او کا نام اس وقت عالمی سطح پر سرخیوں میں آیا تھا جب یکم فروری 2021 کو میانمار کی فوج نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ اس فوجی بغاوت کے دوران جنرل یے ون او نے ان فوجی دستوں کی قیادت کی تھی جنہوں نے نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کو حراست میں لیا تھا۔

مبصرین اور سفارت کاروں کے مطابق 60 سالہ جنرل یے ون او کا انتخاب ان کی سبکدوش ہونے والے کمانڈر من آنگ ہلینگ سے قریبی وابستگی اور وفاداری کا نتیجہ ہے۔ من آنگ ہلینگ اب ملک کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں جس کے لیے انہوں نے دسمبر اور جنوری میں ہونے والے انتخابات کو بطور ذریعہ استعمال کیا، جنہیں عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

فوج سے منحرف ہونے والے میجر نونگ یو کا کہنا ہے کہ من آنگ ہلینگ نے اپنے سب سے قابل اعتماد ساتھی کو طاقت سونپی ہے تاکہ وہ پس پردہ رہ کر بھی عسکری معاملات پر اپنی گرفت برقرار رکھ سکیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یے ون او کے تقرر سے یہ واضح ہے کہ من آنگ ہلینگ اپنی سیاسی منتقلی کے دوران فوج کی مکمل حمایت اور تحفظ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجی اینڈ پالیسی میانمار کے مطابق یے ون او کا کیریئر روایتی فوجی اکیڈمی کے بجائے آفیسر ٹریننگ اسکول سے شروع ہوا اور وہ من آنگ ہلینگ کے ساتھ خاندانی تعلقات کے باعث ان کے قریبی حلقے میں شامل ہوئے۔ سن 2020 میں انہیں چیف آف ملٹری سیکیورٹی افیئرز تعینات کیا گیا تھا جہاں انہوں نے انٹیلی جنس اور تفتیشی امور کی نگرانی کی۔

اگرچہ انٹیلی جنس چیف کے طور پر ان کی کارکردگی کو عسکری حلقوں میں سراہا گیا ہے، تاہم اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے ان کی زیر نگرانی چلنے والے مراکز میں تشدد کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ گزشتہ برس جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں ان مراکز میں قیدیوں پر بجلی کے جھٹکے، گلا گھونٹنے اور دیگر انسانیت سوز مظالم کا ذکر کیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یے ون او کے کمانڈر ان چیف بننے کے بعد میانمار کی فوجی حکمت عملی میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ توقع ہے کہ وہ کم از کم دو برس تک من آنگ ہلینگ کے احکامات کی مکمل تعمیل کریں گے تاکہ ملک میں موجودہ فوجی تسلط برقرار رہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

2 دن ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

2 دن ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

2 دن ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

2 دن ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

3 دن ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

3 دن ago