ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، ایشیائی ممالک میں صنعتی سرگرمیاں سست پڑ گئیں

ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث مارچ کے دوران ایشیائی معیشتوں میں صنعتی سرگرمیاں سست روی کا شکار رہی ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے خطے کے کاروباری شعبے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

خطے کے ممالک اپنی ضرورت کا اسی فیصد تیل آبنائے ہرمز کے راستے درآمد کرتے ہیں، جس کی بندش کے بعد پیدا ہونے والے توانائی کے بحران نے ایشیائی منڈیوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

چین کے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مسلسل چوتھے ماہ توسیع تو دیکھی گئی تاہم مہنگائی کے دباؤ اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث ترقی کی رفتار سست رہی ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل کی رپورٹ کے مطابق چین کا پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس فروری کے 52 اعشاریہ ایک کے مقابلے میں مارچ میں 50 اعشاریہ آٹھ پر آ گیا، جو تجزیہ کاروں کی 51 اعشاریہ چھ کی پیشگوئی سے کم ہے۔

انڈونیشیا، ویتنام، تائیوان اور فلپائن سمیت دیگر ایشیائی ممالک میں بھی مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جاپانی صنعتوں کو بھی کاروباری ماحول کی خرابی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے، جہاں مینوفیکچرنگ پی ایم آئی 53 اعشاریہ صفر سے گر کر 51 اعشاریہ چھ پر آ گیا ہے۔

جاپان میں خام مال کی قیمتیں اگست 2024 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے، ین کی گرتی قدر اور لیبر کی کمی نے جاپانی صنعت کاروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اینابل فیڈس کا کہنا ہے کہ جنگ نے عالمی اقتصادی منظرنامے کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے نتیجے میں کاروباری اعتماد مجروح ہوا ہے اور کمپنیاں نئی بھرتیاں کرنے یا خریداری میں احتیاط سے کام لے رہی ہیں۔

انڈونیشیا کا پی ایم آئی 53 اعشاریہ آٹھ سے کم ہو کر 50 اعشاریہ ایک اور ویتنام کا انڈیکس 54 اعشاریہ تین سے گر کر 51 اعشاریہ دو پر آ گیا ہے۔ تاہم جنوبی کوریا اس صورتحال میں مستثنیٰ رہا، جہاں سیمی کنڈکٹرز کی مانگ اور نئی مصنوعات کے اجراء کے باعث گزشتہ چار برسوں کے دوران صنعتی سرگرمیوں میں سب سے تیز رفتار اضافہ دیکھا گیا۔

آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے خام تیل کی قیمتوں اور افراط زر میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈالر کی مانگ بڑھنے سے ایشیائی کرنسیوں کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے، جس نے خطے کے مرکزی بینکوں کے لیے معیشت کو جنگ کے منفی اثرات سے بچانے کا چیلنج مزید سنگین کر دیا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

3 دن ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

3 دن ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

3 دن ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

3 دن ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

3 دن ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

3 دن ago