برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ تمام تر شور شرابے کے باوجود ملکی مفاد میں فیصلے کرنے کے پابند ہیں۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو سے انخلا پر غور کرنے کے عندیے کے بعد سامنے آیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھ پر یا کسی اور پر کتنا ہی دباؤ کیوں نہ ہو، میں اپنے فیصلوں میں صرف برطانوی قومی مفاد کو مقدم رکھوں گا۔
ایران میں جاری جنگ کے باعث پیدا ہونے والی عالمی عدم استحکام پر بات کرتے ہوئے سٹارمر نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر برطانیہ کو سیکیورٹی اور معاشی معاملات میں یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس جنگ کے اثرات ایک نسل تک رہیں گے اور یہ ستر کی دہائی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے جیسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔
کیئر سٹارمر نے مزید کہا کہ ہم یورپی یونین کے ساتھ زیادہ پرعزم، قریبی معاشی اور سیکیورٹی تعاون کے خواہاں ہیں، یہ ایک ایسی شراکت داری ہوگی جو ہمارے مشترکہ اقدار اور مستقبل کی عکاسی کرے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ان یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے ایران کے خلاف ان کی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ ٹرمپ نے برطانیہ اور فرانس کا نام لیتے ہوئے خبردار کیا کہ اب ان ممالک کو اپنے دفاع کے لیے خود لڑنا سیکھنا ہوگا کیونکہ امریکہ اب ان کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا۔
برطانوی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ موجودہ لیبر حکومت یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے سابق کنزرویٹو حکومت کے 2020 کے بریگزٹ معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے برطانوی معیشت کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…