آبنائے ہرمز: ٹرمپ کے دعوے کے برعکس زیادہ تر بحری جہازوں کا تعلق ایران سے ہونے کا انکشاف

لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کی تازہ ترین تجزیاتی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی اکثریت کا تعلق ایرانی حکومت سے ہے۔ یہ انکشاف صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران نے انہیں آٹھ آئل ٹینکرز کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت دے کر ایک تحفہ دیا ہے۔

میری ٹائم ڈیٹا کمپنی نے بدھ کے روز جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ یکم مارچ یعنی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے ایک روز بعد سے اب تک آبنائے سے گزرنے والے کل جہازوں میں سے 71 فیصد یا تو ایران کی ملکیت ہیں یا پھر ایرانی بندرگاہوں سے ان کا تعلق ہے۔ ان میں وہ شیڈو فلیٹ بھی شامل ہے جو ایران کی تیل کی ترسیل سے منسلک ہے۔

حتیٰ کہ پابندیوں پر عمل پیرا جہازوں، جیسا کہ یونان کے بلک کارگو بحری جہازوں کی اکثریت کے بھی ایران سے کسی نہ کسی سطح پر روابط موجود ہیں۔ لائیڈز کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران کل ٹرانزٹ میں شیڈو فلیٹ کے جہازوں کا حصہ 88 فیصد رہا، جو کہ اس سے پچھلے ہفتے 83 فیصد تھا۔

جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر، جو امریکہ سمیت 47 ممالک کا ایک بین الاقوامی عسکری اشتراک ہے، کے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران صرف 11 آئل ٹینکرز نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا۔

تہران اور بیجنگ کے درمیان جاری جنگ کے دوران بظاہر گرم جوشی کے باوجود چینی جہازوں کا حصہ کل ٹرانزٹ میں صرف 10 فیصد رہا۔ پیر کے روز چین کی سب سے بڑی شپنگ کمپنی کاسکو کے دو بڑے کنٹینر جہازوں نے ایرانی فورسز کی جانب سے ابتدائی طور پر روکے جانے کے بعد آبنائے عبور کی۔ ایک اور چینی جہاز لوٹس رائزنگ، جسے گزشتہ ہفتے واپس موڑ دیا گیا تھا، بدھ کے روز ایران کے جزیرہ لارک کے قریب دیکھا گیا۔

لائیڈز کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت آبنائے ہرمز کے عین وسط میں واقع اس جزیرے کو ٹول پلازہ کی طرح استعمال کر رہی ہے تاکہ گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی جا سکے۔

ادھر صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس کہ ایران نے پاکستان کے پرچم بردار آئل ٹینکرز کو تحفے کے طور پر گزرنے کی اجازت دی ہے، اور پاکستان کے اس اعلان کے باوجود کہ تہران کے ساتھ دس دن تک روزانہ دو جہازوں کے گزرنے کا معاہدہ ہوا ہے، میرین ٹریفک ویب سائٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی جہازوں کی نقل و حمل میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

ایران بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف امریکہ اور اسرائیل سے منسلک جہازوں کے لیے بند ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 دن ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 دن ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 دن ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 دن ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 دن ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 دن ago