برطانوی بحری حملے میں تباہ ہونے والے ڈینش جنگی جہاز کا ملبہ 225 سال بعد دریافت

کوپن ہیگن کے ساحل پر سمندری ماہرین آثار قدیمہ نے دو سو سال سے زائد عرصہ قبل برطانوی ایڈمرل ہوریشیو نیلسن کے حملے میں غرق ہونے والے ڈنمارک کے جنگی جہاز کے ملبے کو دریافت کر لیا ہے۔ اس تاریخی دریافت میں جہاز کے ٹکڑوں کے علاوہ ایک ملاح کے جبڑے کا حصہ بھی ملا ہے۔

وائکنگ شپ میوزیم کے ماہرین کی جانب سے جمعرات کو اس دریافت کا اعلان کیا گیا، جو کہ 1801 میں ہونے والی کوپن ہیگن کی جنگ کی 225 ویں برسی کے موقع پر عمل میں آیا۔ یہ جہاز اس وقت کے ڈینش فلیگ شپ ڈینیبروگ کا حصہ ہے جو سمندر کی پچاس فٹ گہرائی میں موجود تھا۔

میوزیم کے سربراہ برائے بحری آثار قدیمہ مورٹن جوہانسن کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ڈنمارک کی قومی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا مگر اس بات کا اندازہ لگانا مشکل تھا کہ برطانوی گولہ باری کے دوران جہاز پر موجود عملے پر کیا بیتی ہوگی۔ ماہرین کو امید ہے کہ اس ملبے سے ان افراد کی نجی کہانیاں سامنے آئیں گی جو اس خونی معرکے میں شریک تھے۔

اس جنگ کے دوران برطانوی بحری بیڑے نے ڈنمارک کی بحریہ کو نشانہ بنایا تھا۔ ڈینیبروگ جہاز کو کموڈور اولفرٹ فشر کمانڈ کر رہے تھے، جسے برطانوی توپوں نے شدید نقصان پہنچایا تھا۔ جوہانسن کے مطابق جہاز پر موجود ہونا ایک ڈراؤنے خواب جیسا تھا کیونکہ توپ کے گولے لگنے سے اڑنے والے لکڑی کے ٹکڑے دستی بم کے ٹکڑوں کی طرح عملے کو زخمی کر رہے تھے۔

ماہرین کو ملبے سے دو توپیں، وردیاں، نشانات، جوتے اور بوتلیں بھی ملی ہیں۔ یہ کھدائی اس وقت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس مقام پر مستقبل میں ایک بڑے رہائشی منصوبے لینٹہولم پر کام شروع ہونا ہے۔ ماہرین اب وقت کے خلاف دوڑ میں مصروف ہیں تاکہ تعمیراتی کام شروع ہونے سے پہلے اس تاریخی ورثے کو محفوظ کیا جا سکے۔

غوطہ خوروں کو پچاس فٹ گہرائی میں کام کرنے کے دوران شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سمندری تہہ میں موجود گاد اور تاریکی کے باعث غوطہ خوروں کو اکثر اپنی آنکھوں کے بجائے ہاتھوں سے چیزوں کو محسوس کر کے تلاش کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لکڑی کے ٹکڑوں کی عمر کا تعین کرنے کے بعد یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ اسی دور کا جہاز ہے۔

کوپن ہیگن کی یہ جنگ تاریخ میں ایڈمرل نیلسن کی بڑی فتوحات میں شمار کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی جنگ کے دوران نیلسن نے اپنے افسر کے سگنل کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک مشہور جملہ کہا تھا کہ میں ایک آنکھ رکھتا ہوں، اس لیے مجھے کبھی کبھار اندھا بننے کا حق ہے۔

اس دریافت سے قبل 2024 میں این میری کارگو جہاز سے بھی اشیاء برآمد ہوئی تھیں، جبکہ 2023 میں انگلینڈ کے ساحل پر ایک ڈچ جنگی جہاز دریافت کیا گیا تھا۔ اب ڈینش ماہرین اس امید کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ یہ ملبہ 1801 کے اس اہم تاریخی واقعے کے گمشدہ پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

پنجاب حکومت کا موٹر سائیکل مالکان کے لیے ریلیف پیکیج، پیٹرول پر سبسڈی اور فیسوں میں چھوٹ کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے موٹرسائیکل مالکان کے لیے بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان…

1 منٹ ago

ایران کے ساتھ جنگ: ٹرمپ کی مقبولیت اور ملکی معیشت شدید دباؤ کا شکار

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تیسرے ہفتے کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر…

7 منٹس ago

پنجاب میں بارشوں کا سلسلہ جاری، مری میں سب سے زیادہ ریکارڈ

پنجاب بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری…

13 منٹس ago

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

لاہور ہائی کورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف متفرق درخواست دائر…

1 گھنٹہ ago

پاکستان کا بندرگاہوں کو لاجسٹک حب بنانے کے لیے ٹرانس شپمنٹ کی منظوری کا فیصلہ

پاکستان نے پہلی بار ٹرانس شپمنٹ کے انتظامات کے تحت بلک اور گاڑیوں کی کارگو…

1 گھنٹہ ago

روس کی جانب سے وی پی این پر پابندی، مقامی ادائیگی کا نظام درہم برہم

ٹیلی گرام کے بانی پاول ڈوروو نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ روس کی…

1 گھنٹہ ago