ماسکو: روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے شہر بوشہر میں قائم جوہری بجلی گھر سے اپنے مزید عملے کو بحفاظت نکالنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل سے جنگ بندی یقینی بنانے کا مطالبہ کرے گا۔
روسی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کی ریاستی جوہری کارپوریشن روساٹم کے سربراہ الیکسی لیخاچیو نے بتایا کہ عملے کی منتقلی کے راستوں سے متعلق معلومات متعلقہ اسرائیلی اور امریکی حکام کو فراہم کر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قافلے کی نقل و حرکت کے دوران جنگ بندی پر سختی سے عمل درآمد کروانے کے لیے تمام سفارتی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔
لیخاچیو نے مزید بتایا کہ انخلا کا آخری مرحلہ آئندہ ہفتے متوقع ہے جس میں تقریباً دو سو افراد کو وہاں سے نکالا جائے گا۔ واضح رہے کہ بوشہر جوہری ری ایکٹر روس کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا اور روساٹم کا عملہ وہاں مزید یونٹس کی تعمیر پر کام کر رہا ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے آبنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھولنے کے امریکی مطالبے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ کچھ حلقے فوجی آپریشن کے ذریعے آبنائے کو کھولنے کی بات کر رہے ہیں، تاہم فرانس اس آپشن کی حمایت نہیں کرتا۔
فرانسیسی صدر نے خبردار کیا کہ فوجی کارروائی کا عمل انتہائی طویل ہو سکتا ہے اور اس سے آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور بیلسٹک میزائلوں کے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ویانا (ویب ڈیسک) آسٹریا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود…
آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن کمیشن نے خطے میں ووٹر لسٹوں کی تیاری اور…
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک…
اسلام آباد میں دو روزہ پاکستان واٹر اسٹیورڈ شپ کانفرنس 2026 کا انعقاد کیا گیا…
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ کو کڑی تنقید…
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے اکتالیس اضلاع میں پہلی بار واٹر اینڈ سینی…