ویانا (ویب ڈیسک) آسٹریا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی امریکی درخواست مسترد کر دی ہے۔ ویانا میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ آسٹریا کی وزارت دفاع کو واشنگٹن کی جانب سے متعدد بار ایسی درخواستیں موصول ہوئیں جن میں ایرانی اہداف کے خلاف آپریشن کے لیے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت طلب کی گئی تھی۔
آسٹریا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کی دیرینہ غیر جانبدارانہ پالیسی کے عین مطابق ہے۔ حکام کے مطابق غیر جانبداری آسٹریا کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور کسی بھی غیر ملکی فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود فراہم کرنا اس اصولی موقف کے منافی ہوتا۔
اس سے قبل فرانس، اسپین اور اٹلی جیسے یورپی ممالک بھی امریکا کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر چکے ہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے آبنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھولنے کے امریکی مطالبے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ طاقت کا استعمال ایک طویل اور خطرناک عمل ثابت ہو سکتا ہے جس سے خطے میں بیلسٹک میزائلوں سمیت دیگر سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرانس کبھی بھی فوجی کارروائی کے اس آپشن کا حامی نہیں رہا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…