ماسکو (ویب ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عالمی توانائی منڈیوں میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں بگڑتی ہوئی عسکری اور سیاسی صورتحال پر بات چیت کی اور شہریوں کے جانی نقصان اور اہم بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر دونوں رہنماؤں نے فوری جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔
بات چیت کے دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال خصوصی توجہ کا مرکز رہی جہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی توانائی کی اہم ترسیلی گزرگاہوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے بحران سے نمٹنے کے لیے مربوط لائحہ عمل تیار کرنے پر اتفاق کیا۔
عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر دونوں رہنماؤں نے تیل کی قیمتوں کے سو ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تنازع کے باعث توانائی کی پیداوار اور نقل و حمل میں خلل عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
دونوں جانب سے اوپیک پلس کے فریم ورک کے تحت عالمی آئل مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور موجودہ غیر یقینی صورتحال میں باہمی تعاون اور مربوط اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…