امریکی دباؤ کے پیش نظر کیوبا کی جانب سے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی رہائی

کیوبا کی حکومت نے جمعرات کی شب دو ہزار دس قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام انسانی ہمدردی اور ملکی خودمختاری کے تحت اٹھایا گیا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عمل درآمد ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شدید دباؤ اور ایندھن کی ترسیل میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

کیوبا کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ رہا کیے جانے والوں میں نوجوان، خواتین، ساٹھ سال سے زائد عمر کے افراد، بیرون ملک مقیم کیوبن شہری اور غیر ملکی شامل ہیں۔ سفارت خانے نے واضح کیا کہ سنگین پرتشدد جرائم میں ملوث قیدی اس عام معافی کے حقدار نہیں تھے۔

اس رہائی میں سیاسی قیدیوں کی شمولیت کے حوالے سے تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ غیر منافع بخش تنظیم پریزنرز ڈیفنڈرز کے اعداد و شمار کے مطابق کیوبا میں بارہ سو گیارہ سیاسی قیدی موجود ہیں۔ رواں برس یہ کیوبا میں قیدیوں کی رہائی کا دوسرا واقعہ ہے، اس سے قبل گزشتہ ماہ اکیاون قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کیوبا کو توانائی کے شدید بحران میں کچھ بہتری محسوس ہو رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تیل برآمد کرنے والے ممالک پر بھاری محصولات کی دھمکی کے بعد کیوبا کو کئی ماہ تک ایندھن کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم رواں ہفتے امریکہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر روسی پرچم بردار آئل ٹینکر کو سات لاکھ بیرل سے زائد تیل کے ساتھ ہوانا بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ٹینکر کو داخلے کی اجازت انسانی بنیادوں پر دی گئی تاہم کیوبا کے لیے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ کیوبا کو زندہ رہنے کے لیے ایندھن کی ضرورت ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ آئندہ فیصلوں کا انحصار حالات پر ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کیوبا کی حکومت کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس ملک کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے کیوبا میں حکومت کی تبدیلی پر زور دیا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا کو معاشی اور سیاسی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے اور موجودہ حکومتی نظام میں تبدیلی کے بغیر معیشت کو ٹھیک کرنا ممکن نہیں ہے۔

کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل برموڈیز نے گزشتہ ماہ خبردار کیا تھا کہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا سامنا ایک ناقابل تسخیر مزاحمت سے ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں سابق صدر راؤل کاسترو کا کردار بھی اہم بتایا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago