پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا عمل تسلی بخش انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ چین کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں پڑوسی ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔
چین، جو دونوں ممالک کے ساتھ مغربی سرحدیں مشترک رکھتا ہے، اس تنازع کے حل کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ہی چین کی ثالثی کو اہمیت دیتے ہیں اور اسے خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں جو کہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ چین کی جانب سے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کیے گئے ہیں جبکہ مارچ کے مہینے میں ایک خصوصی ایلچی کو بھی دوروں پر بھیجا گیا تھا۔
اگرچہ چینی ترجمان نے مذاکرات کے مقام کی واضح نشاندہی نہیں کی، تاہم اس سے قبل دونوں ممالک کی جانب سے بات چیت کا مقام شمال مغربی شہر ارمچی بتایا گیا تھا۔
چین کا کہنا ہے کہ وہ دونوں فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ حالات کو سازگار بنایا جا سکے اور بات چیت کے لیے ایک مناسب پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔ تینوں ممالک کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…