ایران جنگ جاری رہی تو عالمی سطح پر غذائی اجناس مزید مہنگی ہونے کا خدشہ، ایف اے او

عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں مارچ کے دوران گزشتہ ستمبر کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت ایف اے او کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ اگر طویل ہوا تو توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث غذائی اجناس مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔

ایف اے او کے چیف ماہر معاشیات میکسیمو ٹوریرو کا کہنا ہے کہ تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے قیمتوں میں اضافہ معمولی رہا ہے جس کی بنیادی وجہ تیل کی بڑھتی قیمتیں ہیں جبکہ عالمی سطح پر اناج کی وافر مقدار نے اس کے اثرات کو محدود رکھا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ کشیدگی چالیس روز سے زائد جاری رہی تو کاشتکار کھاد اور دیگر ضروری آلات کے اخراجات بڑھنے کے باعث پیداواری عمل میں کمی یا فصلوں کے انتخاب میں تبدیلی لا سکتے ہیں جس کے اثرات رواں اور آئندہ برس کی فصلوں پر مرتب ہوں گے۔

ادارے کے فوڈ پرائس انڈیکس میں فروری کی نظرثانی شدہ سطح کے مقابلے میں دو اعشاریہ چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ انڈیکس ایک سال قبل کے مقابلے میں ایک فیصد زیادہ ہے تاہم مارچ دو ہزار بائیس میں یوکرین جنگ کے بعد پہنچنے والی بلند ترین سطح سے اب بھی بیس فیصد کم ہے۔

مارچ کے دوران اناج کی قیمتوں کے انڈیکس میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ ہوا جس کی بڑی وجہ گندم کی عالمی قیمتوں میں چار اعشاریہ تین فیصد اضافہ ہے۔ اس اضافے کے پیچھے امریکا میں فصلوں کی خراب صورتحال اور آسٹریلیا میں کھاد کی بلند قیمتوں کے باعث کاشت میں متوقع کمی جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ مکئی کی قیمتوں میں معمولی تیزی دیکھی گئی جبکہ چاول کی قیمتوں میں تین فیصد کمی واقع ہوئی جس کی وجہ درآمدی طلب میں کمی ہے۔

سبزیوں کے تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے ماہ پانچ اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پام، سویا، سورج مکھی اور ریپ سیڈ آئل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور بائیو فیول کی طلب میں اضافہ ہے۔ پام آئل کی قیمتیں دو ہزار بائیس کے وسط کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

چینی کی قیمتوں میں سات اعشاریہ دو فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ہے جو اکتوبر دو ہزار پچیس کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی ہے جس کے باعث دنیا کے سب سے بڑے چینی برآمد کنندہ ملک برازیل کی جانب سے گنے کو ایتھنول کی تیاری میں استعمال کیے جانے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ گوشت کی قیمتوں میں بھی ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایک الگ رپورٹ میں ایف اے او نے دو ہزار پچیس کے لیے عالمی اناج کی پیداوار کا تخمینہ تین ارب چھتیس ملین میٹرک ٹن تک بڑھا دیا ہے جو کہ ایک ریکارڈ سطح ہے اور گزشتہ برس کے مقابلے میں پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد زائد ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی…

24 منٹس ago

ایندھن کا بحران حکومتی نہیں، عالمی ہے، رانا ثناء اللہ

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں جاری ایندھن…

29 منٹس ago

امریکی انٹیلی جنس: اسرائیلی اور امریکی حملوں کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں برقرار

امریکی خفیہ ایجنسیوں کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور…

35 منٹس ago

عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مقدمات کی جلد سماعت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ون…

1 گھنٹہ ago

برطانیہ کا کویت میں ’ریپڈ سینٹری‘ فضائی دفاعی نظام نصب کرنے کا فیصلہ

برطانیہ نے خلیجی خطے میں اپنے اور کویتی مفادات کے تحفظ کے لیے ریپڈ سینٹری…

1 گھنٹہ ago

جیسیکا پیگولا چارلسٹن اوپن کے کوارٹر فائنل میں پہنچ گئیں

ڈبلیو ٹی اے چارلسٹن اوپن میں دفاعی چیمپئن اور ٹاپ سیڈ جیسیکا پیگولا نے سخت…

2 گھنٹے ago