امریکی انٹیلی جنس: اسرائیلی اور امریکی حملوں کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں برقرار

امریکی خفیہ ایجنسیوں کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے فضائی حملوں کے باوجود ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کی صلاحیتیں بڑی حد تک برقرار ہیں۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایرانی میزائل لانچرز کا تقریباً نصف حصہ اب بھی فعال ہے اور تہران کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ایسے خودکش ڈرونز موجود ہیں جو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ نئی انٹیلی جنس معلومات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعووں سے متصادم ہیں جن میں انہوں نے بارہا کہا تھا کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو ڈرامائی حد تک کم کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے بیشتر لانچرز اور ہتھیار بنانے والی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 12 ہزار 300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ایرانی عسکری صلاحیت متاثر ہوئی اور اہم شخصیات کو ختم کیا گیا ہے۔ تاہم پینٹاگون نے محتاط انداز اپناتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ میزائلوں کی تعداد میں کمی تو آئی ہے لیکن اسے مکمل خاتمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے انٹیلی جنس رپورٹ کے دفاع میں کہا ہے کہ اس طرح کی تنقید دراصل امریکہ اور اسرائیل کی عسکری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حکام کا اصرار ہے کہ ایران کی آپریشنل صلاحیتوں کو مسلسل محدود کیا جا رہا ہے اور فضائی برتری حاصل کر لی گئی ہے۔

اسرائیلی عسکری ذرائع کا اندازہ ہے کہ ایران کے صرف 20 سے 25 فیصد لانچرز اس وقت فعال حالت میں ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ زیر زمین اور خفیہ تنصیبات کا مکمل تخمینہ لگانا مشکل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے موبائل لانچرز اور زیر زمین سرنگوں کے وسیع نیٹ ورک نے فضائی حملوں کی تاثیر کو محدود کر دیا ہے جس کی وجہ سے اہم اثاثے محفوظ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی بحری صلاحیت کا نصف حصہ بھی تاحال برقرار ہے، جس میں سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹی کشتیاں شامل ہیں جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے باقی ماندہ میزائل سسٹمز، ڈرونز اور پراکسی فورسز کے خلاف مزید کارروائی کی ضرورت ہوگی جو خطے اور سمندری راستوں کے لیے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ایران میں امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا، امریکی حکام کی تصدیق

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے اوپر ایک امریکی ایف 15 ای…

31 سیکنڈز ago

آسٹریلیا میں ایندھن کے بحران کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد نے ایسٹر پر سفر منسوخ کر دیا

آسٹریلیا میں ایسٹر کی تعطیلات کے دوران سفری سرگرمیوں میں غیر معمولی کمی دیکھی جا…

6 منٹس ago

خطے میں بڑھتی کشیدگی: پاکستان اور سعودی عرب کا فوری مذاکرات پر زور

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان…

11 منٹس ago

ایران جنگ کے بعد جاپانی ملکیت کا پہلا ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا

جاپان سے تعلق رکھنے والے مائع قدرتی گیس کے ایک ٹینکر نے آبنائے ہرمز کو…

17 منٹس ago

پاکستان رواں ماہ متحدہ عرب امارات کا 3.5 ارب ڈالر قرض واپس کرے گا

پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرض رواں ماہ واپس…

22 منٹس ago

اسرائیل کا سزائے موت کا قانون: چین کا فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ پر زور

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سزائے موت کے نئے…

1 گھنٹہ ago