امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے سال 2027 کے لیے 1 اعشاریہ 5 ٹریلین ڈالر کے بھاری بھرکم دفاعی بجٹ کی منظوری طلب کر لی ہے۔ ایران کے ساتھ پانچویں ہفتے میں داخل ہونے والی جنگ کے اخراجات اور عالمی سطح پر سکیورٹی کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے پیش نظر یہ اضافہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی بھی ایک سال میں کیا جانے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
پینٹاگون کے اخراجات میں 40 فیصد سے زائد کا یہ اضافہ واشنگٹن کی جانب سے فوجی آپریشنز جاری رکھنے اور ختم ہونے والے اسلحہ کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بند کمرہ بریفنگز میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر روزانہ 2 ارب ڈالر تک خرچ ہو رہے ہیں، جس سے ملکی معیشت پر پڑنے والے بوجھ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس بھاری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ نے غیر دفاعی بجٹ میں 73 ارب ڈالر یا تقریباً 10 فیصد کٹوتی کی تجویز دی ہے۔ اس کٹوتی کا ہدف ماحولیاتی اقدامات، رہائشی سہولیات اور تعلیمی فنڈز جیسے شعبے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ ہوگا اور ذمہ داریاں ریاستی و مقامی حکومتوں کو منتقل کی جائیں گی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں ملکی تحفظ کو ترجیح دینا ناگزیر ہے اور وفاقی حکومت کے لیے ڈے کیئر، میڈیکیڈ اور میڈی کیئر جیسے معاملات سنبھالنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان شعبوں کو ریاستی سطح پر دیکھا جانا چاہیے جبکہ واشنگٹن کی تمام تر توجہ فوجی تحفظ پر مرکوز ہونی چاہیے۔
بجٹ کی یہ تجاویز کانگریس کے سامنے پیش کی گئی ہیں تاہم حتمی منظوری کا اختیار قانون سازوں کے پاس ہے۔ صدر ٹرمپ 1 اعشاریہ 1 ٹریلین ڈالر روایتی طریقہ کار سے منظور کروانا چاہتے ہیں جبکہ مزید 350 ارب ڈالر کے لیے وہ ایسی حکمت عملی اپنا رہے ہیں جس میں اپوزیشن کی حمایت کی ضرورت نہ پڑے۔
ریپبلکن قیادت اس منصوبے پر کسی حد تک آمادہ دکھائی دیتی ہے تاہم اپنی ہی جماعت کے کچھ ارکان وفاقی خسارے کے بڑھنے پر تشویش کا شکار ہیں۔ امریکہ کا سالانہ خسارہ پہلے ہی 2 ٹریلین ڈالر کے قریب ہے جبکہ مجموعی قرضہ 39 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی نے اس بجٹ کی شدید مخالفت کی ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی عوام جنگ نہیں بلکہ صحت کی سہولیات چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ پر اربوں خرچ کر رہی ہے لیکن صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری سے انکاری ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے…
خلیج فارس کے خطے میں جمعہ کے روز امریکی فضائیہ کا ایک اور جنگی طیارہ…
بیروت پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک…
اسلام آباد میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی قیمت…
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اپنے دورہ خلیج کے غیر اعلانیہ سلسلے کا آغاز…
تل ابیب میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ہیڈکوارٹر پر ایرانی حملے اور دھماکے کا…