امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی کے لیے علاقائی طاقتوں کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق تہران نے ثالثوں کو واضح کر دیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ واشنگٹن کے مطالبات غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل قبول ہیں۔
ایرانی انکار کے بعد ترکی اور مصر سمیت دیگر علاقائی ممالک مذاکرات کے لیے متبادل مقامات کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے قطر اور استنبول کو ممکنہ مراکز کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے۔
اس سفارتی تعطل کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سینئر سفارت کار عباس عراقچی کی حالیہ عوامی مصروفیات کو تہران کی جانب سے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سفارتی بحران کے باوجود ملکی سطح پر اپنی حمایت کو مستحکم ظاہر کرنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…