شمالی افغانستان میں آنے والے پانچ اعشاریہ آٹھ شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بارہ ہو گئی ہے۔ کابل کے نواحی علاقے میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد دیوار گرنے سے جاں بحق ہوئے جن میں سے صرف ایک تین سالہ بچہ زندہ بچ سکا جسے شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق زلزلے سے مجموعی طور پر چار افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ پانچ مکانات مکمل طور پر تباہ اور تینتیس کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں کابل، پنجشیر، لوگر، ننگرہار، لغمان اور نورستان شامل ہیں جہاں چالیس خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہلاکتوں کی تعداد نو بتائی ہے، جس کی وجہ سے اعداد و شمار میں تضاد پایا جاتا ہے۔
مقامی رہائشی محب اللہ نیازی نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والا خاندان حال ہی میں ایران سے واپس لوٹا تھا اور پندرہ روز قبل ہی کابل کے نواحی گاؤں اتفاق میں خیمہ لگا کر رہائش پذیر ہوا تھا۔ شدید بارشوں کے باعث زمین نرم ہو چکی تھی جس کی وجہ سے زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ایک دیوار ان کے خیمے پر آ گری۔
محب اللہ نیازی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زلزلے کے بعد چند منٹ تک ملبے تلے دبے افراد کی چیخیں سنائی دیتی رہیں مگر امدادی سامان کی کمی کے باعث وہ انہیں بچانے میں بے بس تھے۔ ہسپتال انتظامیہ کے ترجمان شرافت زمان کے مطابق زخمی بچے آرش کے سر پر گہری چوٹیں آئی ہیں اور اس کا علاج جاری ہے۔
زلزلے کا مرکز ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا جو قندوز شہر سے تقریباً ایک سو پچاس کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ افغانستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے زلزلوں کے لحاظ سے انتہائی حساس بناتا ہے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران یہاں آنے والے شدید زلزلوں میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور متاثرہ خاندانوں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…