یروشلم کے قدیم شہر میں آرتھوڈوکس عیسائیوں کے لیے مقدس ترین ہفتے کا آغاز ہو گیا ہے، جس کی ابتدا پام سنڈے کی مذہبی رسومات سے ہوئی ہے۔ یروشلم کے گریک آرتھوڈوکس پیٹریاک تھیوفیلس سوم نے پادریوں کے ہمراہ چرچ آف دی ہولی سیپلکر میں خصوصی عبادات کی قیادت کی۔
پام سنڈے سے شروع ہونے والا یہ ہفتہ عیسائی کیلنڈر کا اہم ترین حصہ سمجھا جاتا ہے جو ایسٹر پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس موقع پر کیتھولک عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مصلوبیت کے تین روز بعد ان کی دوبارہ زندگی کی طرف واپسی کا تہوار منا رہے ہیں۔
عام حالات میں یروشلم کا قدیم شہر مذہبی رسومات میں شرکت کرنے والے ہجوم اور چرچ کے عظیم الشان دروازوں سے گزرنے والے زائرین سے کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے۔ تاہم، اس سال سیکیورٹی پابندیوں کے باعث عیسائی، مسلمان اور یہودی اپنے مذہبی تہوار ایسٹر، رمضان اور پاس اوور کو روایتی انداز میں منانے سے قاصر ہیں۔
اسرائیلی پولیس کا موقف ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے قدیم شہر میں واقع تمام مقدس مقامات کو زائرین کے لیے بند کر دیا گیا تھا، خاص طور پر وہ مقامات جہاں بم شیلٹر موجود نہیں ہیں۔
گزشتہ ہفتے اسرائیل کی جانب سے کیتھولک کارڈینل کو پام سنڈے کی رسومات میں شرکت سے روکنے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا، جس کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقدس ہفتے کے بقیہ دنوں کے لیے اس پابندی کو واپس لینے کا اعلان کیا۔
تیس مارچ کو لاطینی پیٹریاکیٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اسرائیلی پولیس کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت کلیسائی نمائندوں کو رسومات کی ادائیگی اور قدیم روایات کو برقرار رکھنے کے لیے چرچ آف دی ہولی سیپلکر تک رسائی دی جائے گی، تاہم عوامی اجتماعات پر عائد پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…