امریکی کانگریس کی سابق رکن اور ریپبلکن پارٹی کی اہم رہنما مارجوری ٹیلر گرین نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔
گرین نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ میں شامل جو لوگ خود کو مسیحی کہلواتے ہیں، انہیں خدا کے حضور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر معافی مانگنی چاہیے۔
آبنائے ہرمز کی حالیہ بندش پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف بلا اشتعال جنگ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ اسرائیل خود جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک ہے۔
مارجوری ٹیلر گرین نے سخت الفاظ میں کہا کہ اسرائیل امریکہ کی مدد کے بغیر بھی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ بے گناہ شہریوں اور بچوں کو مارنے کا ہنر خوب جانتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کا مقصد مسیحی اقدار کے منافی ہے اور کوئی بھی سچا مسیحی اس کی حمایت نہیں کرے گا۔ انہوں نے اس طرز عمل کو امریکہ کو عظیم بنانے کے بجائے شیطانی عمل قرار دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…