شمالی جرمنی میں ایسٹر کے تہوار کے موقع پر پیش آنے والے ایک افسوسناک حادثے میں دس ماہ کی بچی سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی صبح تقریباً گیارہ بجے سیٹرو ف ہولم قصبے کے قریب جنگلی علاقے میں پیش آیا، جہاں تیز ہواؤں کے باعث ایک سو فٹ اونچا درخت وہاں موجود لوگوں پر آ گرا۔
اس تقریب میں قریب ہی واقع ایک فلاحی مرکز میں مقیم تقریباً پچاس افراد شریک تھے، جن میں نئی مائیں، حاملہ خواتین اور بچے شامل تھے۔ درخت گرنے سے چار افراد اس کے نیچے دب گئے تھے۔ امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی، تاہم اکیس سالہ خاتون اور سولہ سالہ لڑکی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ دس ماہ کی بچی کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ بھی جانبر نہ ہو سکی۔ ایک اٹھارہ سالہ لڑکی شدید زخمی ہے جسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فلاحی مرکز ریاستی سرپرستی میں چلنے والے چائلڈ ویلفیئر سسٹم کا حصہ ہے، جو ضرورت مند خواتین اور بچوں کی معاونت کرتا ہے۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر ماہرین نفسیات کو طلب کر لیا گیا تاکہ متاثرین اور عینی شاہدین کی کونسلنگ کی جا سکے۔
جرمن محکمہ موسمیات کی جانب سے واقعے سے قبل ہی علاقے میں تیز ہواؤں کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔ حادثے کے بعد شلیسویگ ہولسٹائن کے گورنر ڈینیئل گنتھر، وزیر داخلہ میگڈالینا فنکے اور وزیر برائے یوتھ اینڈ فیملیز امیناتا ٹورے نے مشترکہ بیان میں گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے کہا کہ ان کی ہمدردیاں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور اس ہولناک واقعے سے گزرنے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں…
ماسکو نے ایران اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی…
شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان میں سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے ہونے والے…
عمان اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ اور بلاتعطل نقل…
بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے روسی ہم…
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ صوبے بھر میں ٹرانسپورٹرز…