تائیوان کی مرکزی اپوزیشن جماعت کومنٹانگ کی چیئرپرسن چینگ لی وون منگل کے روز چین کا غیر معمولی دورہ کریں گی۔ یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے چند ہفتے قبل ہو رہا ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ بیجنگ اس دورے کو جزیرے پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کرے گا۔
چینگ لی وون گزشتہ ایک دہائی میں چین کا دورہ کرنے والی کومنٹانگ کی پہلی موجودہ چیئرپرسن ہوں گی۔ انہوں نے اپنے دورے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کر کے خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں کرنا چاہتی ہیں۔
تائیوانی حکام اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اس ملاقات کو کومنٹانگ میں چینگ لی وون کی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کو روکنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
کومنٹانگ جماعت طویل عرصے سے چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی حامی رہی ہے۔ چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھتا ہے اور اسے اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔
چینگ لی وون کی پارٹی کی قیادت تک غیر متوقع رسائی پر اکتوبر میں چینی صدر نے انہیں مبارکباد بھی دی تھی۔ تاہم، اپنی ہی پارٹی کے اندر اور سیاسی حلقوں میں ان پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ ان کے بیانات اور پالیسیاں حد سے زیادہ چین نواز ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…