ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی علالت اور تشویشناک طبی صورتحال کے حوالے سے ایک سفارتی مراسلے نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت قم میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت اتنی غیر ہے کہ وہ حکومتی امور چلانے یا فیصلہ سازی میں حصہ لینے کے قابل نہیں رہے۔
یہ انکشاف امریکہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس رپورٹس پر مبنی ایک سفارتی دستاویز میں کیا گیا ہے جسے خلیجی ممالک کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے خفیہ ٹھکانے کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات سامنے آئی ہیں، کیونکہ ان کے والد علی خامنہ ای کی اٹھائیس فروری کو اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ہلاکت کے بعد سے ان کی نقل و حرکت انتہائی خفیہ رکھی گئی تھی۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ پر مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے دو بیانات تو نشر کیے گئے ہیں، تاہم تاحال ان کی کوئی براہ راست آڈیو یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی جس سے ان کی صحت کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ وہ بدستور اقتدار میں ہیں، لیکن غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے امورِ مملکت چلانے سے قاصر ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکومتی خلا کے باعث ملک میں پاسدارانِ انقلاب کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اسی دوران قم میں علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک بڑے مقبرے کی تعمیر کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں، جو تہران میں تدفین اور سوگ کے حوالے سے جاری کردہ سابقہ سرکاری بیانات سے مختلف ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…