سعودی تنصیبات پر ایرانی حملے: پاکستان کی جانب سے شدید مذمت، خطے میں کشیدگی پر تشویش

پاکستان نے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرناک کشیدگی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر گہری تشویش میں مبتلا ہے۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق پاکستان ان حملوں کی غیر مشروط مذمت کرتا ہے اور جانی نقصان پر گہرا دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ پاکستان نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لیے اسلام آباد کی حمایت غیر متزلزل ہے۔

سعودی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ منگل کے روز مملکت کے مشرقی ریجن میں بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، تاہم ان کے ملبے کے باعث توانائی تنصیبات کے قریب نقصان کی اطلاعات ہیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے جبیل میں واقع پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق جبیل کے صنعتی علاقے میں واقع سعودی بیسک انڈسٹریز کارپوریشن کی تنصیبات میں دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس کے پیش نظر قریبی رہائشی علاقوں سے عملے کو فوری طور پر نکال لیا گیا تھا۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ احتیاطی تدبیر کے طور پر سعودی عرب اور بحرین کو ملانے والی شاہ فہد کاز وے کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ دریں اثنا، امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کے جزیرہ خارک پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے تزویراتی تعلقات قائم ہیں، جس کی بنیاد گزشتہ برس ریاض میں طے پانے والا اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب پر وسیع تر ایرانی حملوں کو روکنے میں کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ بحرانی صورتحال کے دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات ہوئی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ علاقائی استحکام کے لیے مربوط کوششیں کی جا سکیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

2 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

2 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

2 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

2 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

2 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

2 ہفتے ago