امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے حوالے سے متنازع بیانات اور کشیدگی میں اضافے کے بعد، ڈیموکریٹک پارٹی کے دو درجن سے زائد قانون سازوں نے صدر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق قانون سازوں نے اس اقدام کے لیے پچیسویں ترمیم یا دیگر آئینی طریقہ کار استعمال کرنے پر زور دیا ہے۔
ڈیموکریٹک ارکان کی جانب سے یہ مطالبہ صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایرانی تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی۔ اس بیان نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ امریکہ کے اندر بھی شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔
یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ ڈیموکریٹک رہنما پہلے صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی ناکام کوشش کے بعد دوبارہ ایسی کسی مہم سے گریزاں تھے، تاہم اب صورتحال بدل چکی ہے۔ اس مہم کی قیادت کرنے والے نمایاں رہنماؤں میں الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، ایانا پریسلے، راشدہ طلیب، رو کھنہ اور سینیٹر ایڈ مارکی شامل ہیں۔
ڈیموکریٹک رکن کانگریس ایرک سوالویل نے سخت الفاظ میں مطالبہ کیا کہ صدر کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے اور اگر کانگریس اس معاملے میں بزدلی کا مظاہرہ کرتی ہے تو ان کی اپنی کابینہ کو یہ ذمہ داری نبھانی چاہیے۔
اس مطالبے کی حمایت کرنے والوں میں سارہ میک برائیڈ، سیٹھ مولٹن اور سارہ جیکبز بھی شامل ہیں۔ یہ تمام تر صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے بحران اور ٹرمپ انتظامیہ کے طرز عمل پر ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر تشویش کی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے۔
واشنگٹن میں جاری اس سیاسی رسہ کشی نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے تنازع کو سنبھالنے کے طریقوں پر داخلی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کے اثرات ملک کی مجموعی سیاسی فضا پر مرتب ہو رہے ہیں۔
واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شب اعلان…
وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نے عازمین حج کی سہولت کے لیے…
وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ خلیجی…
وزیر اعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں تسلسل، برآمدات میں اضافے اور ادارہ…
مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت ملازمتوں…
برطانوی حکومت نے معروف امریکی ریپر کانیے ویسٹ، جنہیں اب 'یے' کے نام سے جانا…