وائٹ ہاؤس نے ایران پر جوہری حملے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا

وائٹ ہاؤس نے ان قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات میں ایران کے خلاف جوہری حملے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کو دی گئی ڈیڈ لائن قریب ہے اور خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔

وائٹ ہاؤس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان تاثرات کو مسترد کیا جن میں وینس کے بیان کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے جوڑا گیا تھا۔ نائب صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج کے پاس ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جنہیں استعمال کرنے کا فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا، جس کا مقصد واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دیا گیا الٹی میٹم نافذ کرنا تھا۔

یہ تردید منگل کے روز ایران کے جزیرہ خارک پر امریکی فضائی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملے محدود نوعیت کے تھے اور ان میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا گیا، جو عالمی منڈیوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بوڈاپیسٹ کے دورے کے دوران جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ یہ حملے امریکی حکمت عملی میں کسی تبدیلی کا حصہ نہیں ہیں۔

نائب صدر نے کہا کہ واشنگٹن فی الحال توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے سے گریز کر رہا ہے اور یہ تحمل اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ایران سفارتی پیشکشوں پر مثبت ردعمل نہیں دیتا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو منگل کی رات آٹھ بجے تک کی ڈیڈ لائن دی ہے جس میں جوہری عزائم ترک کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسی شرائط شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب تہران نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے قرارداد پر ووٹنگ کی تیاری کر رہی ہے، تاہم چین کی مخالفت کے باعث اس قرارداد میں طاقت کے استعمال کی شقوں کو کمزور کر دیا گیا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی افواج نے ایران میں پلوں اور ریلوے کے نظام کو نشانہ بنایا ہے، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں پاسداران انقلاب اسلحہ اور اہلکاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ اسرائیل نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ٹرینوں اور ریلوے تنصیبات کے قریب جانے سے گریز کریں۔ عالمی قوانین کے تحت شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ممنوع ہے، تاہم اسرائیل ماضی میں بھی اس طرح کے اقدامات کر چکا ہے۔ ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ ہی سفارتی کوششیں دباؤ کا شکار ہیں اور خطے میں عسکری سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

امریکہ کا ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کی پاکستانی تجویز پر اتفاق

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شب اعلان…

3 منٹس ago

پاکستان: ملک بھر کے کیمپوں میں ایک روزہ حج پروسیسنگ کا آغاز

وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نے عازمین حج کی سہولت کے لیے…

53 منٹس ago

وزیراعظم شہباز شریف کی صدر ٹرمپ سے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی اپیل

وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ خلیجی…

58 منٹس ago

توانائی اور برآمدات میں استحکام، وزیراعظم شہباز شریف کا پالیسی تسلسل برقرار رکھنے کا عزم

وزیر اعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں تسلسل، برآمدات میں اضافے اور ادارہ…

1 گھنٹہ ago

مصنوعی ذہانت سے امریکہ میں نصف سے زائد ملازمتیں متاثر ہونے کا امکان

مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت ملازمتوں…

2 گھنٹے ago

یہودی مخالف بیانات پر کینی ویسٹ کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی عائد

برطانوی حکومت نے معروف امریکی ریپر کانیے ویسٹ، جنہیں اب 'یے' کے نام سے جانا…

2 گھنٹے ago