ایران کو دھمکی: ڈیموکریٹس کا ٹرمپ کی برطرفی کا مطالبہ، ریپبلکنز کی خاموشی

واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن اور اس کے بعد دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے درمیان امریکی کانگریس میں ریپبلکن ارکان کی بڑی تعداد خاموش رہی۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو منگل کی رات آٹھ بجے تک عالمی تیل کی تجارت کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا الٹی میٹم دیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ڈیڈ لائن سے بارہ گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تشویشناک پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی جو کبھی واپس نہیں آئے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا لیکن غالباً ایسا ہی ہوگا۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن کانگریس نیتھینیل موران نے اس دھمکی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پوری تہذیب کی تباہی کی حمایت نہیں کرتے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم ایسے نہیں ہیں اور یہ امریکی اصولوں کے منافی ہے۔ الاسکا سے ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکووسکی نے بھی ٹرمپ کے بیان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے صدر اور ایرانی قیادت پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کو کم کریں۔

کیلیفورنیا کے رکن کانگریس کیون کائلی، جنہوں نے حال ہی میں ریپبلکن پارٹی سے علیحدگی اختیار کی ہے، نے بھی ٹرمپ کو خبردار کیا کہ امریکا تہذیبوں کو تباہ نہیں کرتا اور نہ ہی ایسی دھمکیاں مذاکرات کا طریقہ کار ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے صدر ٹرمپ کے بیان پر شدید ردعمل دیا ہے۔ سابق اسپیکر نینسی پیلوسی سمیت ستر سے زائد ڈیموکریٹک ارکان نے ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ نینسی پیلوسی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا عدم توازن پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو چکا ہے اور اگر کابینہ پچیسویں ترمیم کا استعمال نہیں کرتی تو ریپبلکنز کو کانگریس کا اجلاس بلا کر اس صورتحال کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

ڈیموکریٹک رکن جان لارسن نے ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک بھی پیش کر دی ہے، تاہم کانگریس میں ریپبلکن اکثریت کے باعث اس کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کانگریس سے باہر بھی کچھ قدامت پسند حلقے، جو کبھی ٹرمپ کے حمایتی تھے، اب ان کے سخت ناقد بن چکے ہیں جن میں مارجوری ٹیلر گرین اور ایلکس جونز بھی شامل ہیں۔

آٹھ بجے کی ڈیڈ لائن سے دو گھنٹے قبل صدر ٹرمپ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا، جس کی شرط آبنائے ہرمز کو فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنا قرار دی گئی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی فی الحال بڑے پیمانے پر حملے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

وزیراعظم شہباز شریف کی ایران اور امریکہ کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد آمد کی دعوت

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم…

52 منٹس ago

امریکہ کا ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق

واشنگٹن نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز…

2 گھنٹے ago

اسحاق ڈار کی ترکی، مصر، سعودی عرب اور مراکش کے وزرائے خارجہ سے علاقائی امن پر گفتگو

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بدھ کی شب ترکیہ، مصر،…

3 گھنٹے ago

پاکستان کی ثالثی کامیاب: ٹرمپ کا ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے روکنے کا اعلان

پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے دو…

3 گھنٹے ago

اسلام آباد ہائی کورٹ: بیرسٹر سلمان صفدر کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کے ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان…

3 گھنٹے ago

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کے ساتھ دو طرفہ جنگ بندی…

4 گھنٹے ago