کابل نے چین کی میزبانی میں پاکستان کے ساتھ جاری مذاکرات کو مفید قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ معاملات کی معمولی تشریحات امن عمل میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔ چین کی دعوت پر شروع ہونے والے یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار جاری جھڑپوں کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
مغربی چین کے شہر ارومچی میں جاری یہ امن عمل فروری سے شروع ہونے والے اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش ہے جس میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال بیجنگ کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے کیونکہ اسے اپنے مغربی علاقوں کے قریب بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش ہے۔
پاکستان نے اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ کھلی جنگ کا اعلان کر رکھا ہے اور اس دوران دارالحکومت کابل سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے بھی کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار دفتر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا کہ فروری سے جاری لڑائی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 94 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ جبکہ سرحد کے قریب واقع دو افغان اضلاع میں ایک لاکھ افراد لڑائی کے باعث مکمل طور پر محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
اس تنازع نے عالمی برادری کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، خاص طور پر اس خطے میں القاعدہ اور داعش جیسی کالعدم تنظیموں کی موجودگی کے باعث خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ یکم اپریل سے شروع ہونے والے ان مذاکرات کے بارے میں دونوں جانب کے درمیانی درجے کے وفود کی جانب سے تاحال بہت کم سرکاری بیانات سامنے آئے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…