اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی تیاریاں، وینس کی شرکت غیر یقینی

اسلام آباد ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد یہ اہم مذاکرات جمعہ 10 اپریل کو وفاقی دارالحکومت میں ہوں گے۔

ان مذاکرات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حساس مقامات پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم ضروری خدمات بدستور بحال رہیں گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے تاہم نائب صدر کی موجودگی یقینی نہیں ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں فریقین فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں اور حتمی معاہدے کے لیے انہیں اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار کریں گے۔

یہ جنگ بندی آبنائے ہرمز کے حوالے سے واشنگٹن کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن سے قبل عمل میں آئی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنے فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں اور فریقین طویل مدتی معاہدے کے قریب ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی ثالثی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر حملے بند ہوئے تو تہران بھی دفاعی کارروائیاں روک دے گا۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے واضح کیا ہے کہ اس دوران آبنائے ہرمز سے سمندری نقل و حمل ایرانی فورسز کے تعاون سے جاری رہے گی۔ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام اور برسوں پرانی امریکی پابندیاں اٹھانے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس نے بھی مذاکرات کی تیاریوں کی تصدیق کی ہے۔

فروری کے آخر سے جاری اس کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی اور اقتصادی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا تھا جس کے بعد پاکستان کی ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ اب تمام تر نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں جہاں اعلیٰ سطحی وفود کی آمد سے خطے میں امن اور معاشی بحالی کی نئی امیدیں وابستہ ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

2 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

2 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

2 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

2 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

2 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

2 ہفتے ago