ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اب گیند امریکہ کی کورٹ میں ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف مجرمانہ مقدمے کی سماعت اتوار کے روز دوبارہ شروع ہونے والی ہے۔
عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیر اعظم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان سمیت پورے خطے میں جنگ بندی کا قیام نیتن یاہو کے خلاف قانونی کارروائیوں کو تیز کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں ان کی قید کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی حمایت میں جنگ جاری رکھنا امریکہ کے لیے غیر دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ لبنان، ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتہ وار جنگ بندی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ لبنان اور مزاحمتی محور ایران کے اتحادی ہیں اور جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ ہیں۔
قالیباف نے مزید کہا کہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کی واضح قیمت چکانا پڑے گی اور تہران ایسی کسی بھی صورت میں سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…