لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے واشنگٹن میں ہنگامی مذاکرات کا فیصلہ

واشنگٹن میں لبنان میں جنگ بندی کے قیام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سہ فریقی سفارتی مذاکرات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیلی فوج کی جانب سے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ٹھکانوں پر شدید فضائی حملے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں لبنانی شہریوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ذرائع کے مطابق، وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دفتر کی زیر نگرانی ان مذاکرات کی قیادت لبنان میں امریکی سفیر مشیل عیسیٰ کریں گے۔ اجلاس میں لبنان کی سفیر ندا حمادہ معوض اور اسرائیل کے سفیر یحییٰ لیٹر شرکت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نشست کا بنیادی مقصد فریقین کے درمیان براہ راست بات چیت کا راستہ ہموار کرنا ہے۔

لبنان اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سفارت کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، جن کی اسلام آباد میں متوقع آمد کے حوالے سے بھی اطلاعات ہیں، نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو سفارتی کوششیں سبوتاژ کرنے کی کھلی چھوٹ دے رہا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو اعلان کردہ جنگ بندی کے اطلاق کے حوالے سے شدید ابہام پیدا ہوا تھا۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس جنگ بندی کے دائرہ کار میں لبنان کو شامل قرار دیا تھا، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بھی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے شرائط پر متفق ہے۔

تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد امریکی موقف میں تبدیلی دیکھی گئی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسے ایک جائز غلط فہمی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایران نے یہ سمجھنے میں غلطی کی کہ جنگ بندی میں ان کی پراکسی فورسز بھی شامل ہوں گی۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے لبنانی حکومت کی مذاکرات کی درخواست قبول کر لی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ لبنان میں فی الحال کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔

امریکی انتظامیہ میں نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے مقابلے میں وینس کے ساتھ بات چیت کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ انہیں سابقہ امریکی ایلچیوں پر اعتماد کا فقدان ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

2 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

2 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

2 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

2 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

2 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

2 ہفتے ago