امریکی حکام کی جانب سے ایک نئی تجویز پیش کی گئی ہے جس کے تحت نوجوانوں کی فوجی خدمات کے لیے رجسٹریشن کا عمل خودکار بنایا جا سکتا ہے۔ اس مجوزہ تبدیلی کے بعد دسمبر تک نوجوانوں کو خود رجسٹریشن کروانے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وفاقی ادارہ سلیکٹو سروس سسٹم دیگر سرکاری ذرائع سے ڈیٹا حاصل کر کے خودکار طریقے سے رجسٹریشن مکمل کر لے گا۔
موجودہ قوانین کے مطابق امریکہ میں اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے والے نوجوانوں کے لیے 30 دن کے اندر رجسٹریشن کروانا لازمی ہوتا ہے۔ سلیکٹو سروس سسٹم کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے انتظامی اخراجات میں کمی آئے گی اور یاد دہانی کے لیے چلائی جانے والی مہمات پر اٹھنے والے فنڈز کی بچت ہوگی۔
یہ تجویز نیشنل ڈیفنس اتھرائزیشن ایکٹ کا حصہ ہے جسے کانگریس کی منظوری حاصل ہے۔ حکام کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد عمل کو ہموار کرنا اور وسائل کو فوجی تیاریوں پر مرکوز کرنا ہے۔ تاہم یہ تجویز ابھی حتمی منظوری کے مرحلے میں ہے اور اس کے نافذ ہونے سے قبل مزید جائزے لیے جا رہے ہیں۔
امریکہ میں رجسٹریشن نہ کروانا ایک وفاقی جرم تصور کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں وفاقی تعلیمی وظائف، سرکاری ملازمتوں اور بعض صورتوں میں شہریت کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں رجسٹریشن کی شرح 81 فیصد تک گر گئی تھی، جس کے بعد اس نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت نے امریکی عوام میں ایک بڑے بحران یا جنگ کی صورت میں لازمی فوجی بھرتی کے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ میں 1973 کی ویتنام جنگ کے بعد سے کبھی لازمی فوجی بھرتی کا نفاذ نہیں کیا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال ایسی کسی بھرتی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں جاری جنگ…
کراچی میں میٹرک کے امتحانات کا آغاز بدانتظامی اور پرچہ لیک ہونے کی اطلاعات کے…
نصف صدی سے زائد عرصے میں انسانوں کو چاند تک لے جانے والے پہلے خلائی…
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یومِ آئین کے موقع پر اپنے پیغام میں…
یورپی نشاۃ ثانیہ، جسے اکثر کلاسیکی علوم کی بازگشت قرار دیا جاتا ہے، درحقیقت اسلامی…
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں تیزی کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں پر بھی مرتب ہوئے…