متحدہ عرب امارات نے ایران کی حالیہ جارحیت کے بعد اپنے علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مستقبل کے لیے قابل اعتماد اتحادیوں کی نشاندہی کرنا اور ملکی معاشی استحکام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
صدر متحدہ عرب امارات کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کی گئی وحشیانہ کارروائیوں کے فوری نتائج اخذ کرنا قبل از وقت ہے، تاہم ملک اپنے قومی ماڈل اور دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انور قرقاش نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی عالمی شراکت داریوں کا انتہائی درستگی اور شفافیت کے ساتھ دوبارہ جائزہ لے گا تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ مستقبل میں کن ممالک پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔
انور قرقاش نے مزید کہا کہ ایک غدارانہ حملے پر قابو پانے کے بعد متحدہ عرب امارات کا اعتماد مزید بڑھا ہے۔ اب ملک اپنے ترقیاتی ماڈل کی لچک اور پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے معاشی اور مالیاتی امور میں بھی اصلاحات لائے گا۔
سفارتی مشیر نے اس بات پر زور دیا کہ قومی ترجیحات اور اتحادوں کا محتاط جائزہ ہی ملک کے اگلے لائحہ عمل کا تعین کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی استحکام کے تحفظ اور ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے تمام تر کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…