پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ ان بات چیت کا حتمی مقصد جنگ کا مکمل اور جامع خاتمہ ہونا چاہیے۔ حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی ان امن کوششوں کی کامیابی کی منتظر ہے اور اسے امید ہے کہ یہ سفارتی اقدامات خطے میں مثبت نتائج مرتب کریں گے۔
حماس کا مزید کہنا ہے کہ سفارتی عمل سے عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور استحکام کو فروغ ملے گا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران سے مذاکرات سے قبل اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی میزبانی بھی کی ہے۔
دوسری جانب انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے بھی پاکستان میں ایران اور امریکا کے مابین جاری مذاکرات کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ انڈونیشی وزارت خارجہ کے مطابق ایسے پیش رفت سے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی اور بات چیت ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔
انڈونیشیا نے ان مذاکرات کو تنازعات کے حل کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں مزید تیز کرنے پر زور دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے، خودمختاری کا احترام کرنے اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…