روس اور یوکرین کے درمیان ایسٹر کے موقع پر عارضی جنگ بندی کا آغاز

یوکرین اور روس کے مابین آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر عارضی جنگ بندی کا آغاز ہو گیا ہے، تاہم یوکرینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر روسی فوج نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ احکامات کے تحت یہ جنگ بندی ہفتے کی شام چار بجے سے شروع ہوئی جو اتوار کی رات تک جاری رہے گی، اس دوران کل دورانیہ ۳۲ گھنٹے مقرر کیا گیا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین جنگ بندی کا احترام کرے گا اور اگر فضا، زمین یا سمندر میں روسی حملے نہ ہوئے تو ہماری جانب سے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

جنگ بندی کے نفاذ سے چند گھنٹے قبل روس نے یوکرین پر ۱۶۰ ڈرونز سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ سب سے زیادہ نقصان اوڈیسا کے علاقے میں ہوا جہاں شہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔

دوسری جانب روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملوں سے روس کے علاقے کراسنوڈار میں ایک آئل ڈپو میں آگ لگی اور رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں۔ نیز، یوکرین کے مقبوضہ علاقوں ڈونیٹسک اور خیرسون میں بھی یوکرینی ڈرون حملوں میں چار افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک نے ہفتے کے روز قیدیوں کے تبادلے کا عمل مکمل کیا جس میں متحدہ عرب امارات نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ اس تبادلے میں دونوں جانب سے ۱۷۵، ۱۷۵ قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

جنگ بندی کے حوالے سے یوکرینی عوام میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کیونکہ گزشتہ برس بھی ایسٹر کے موقع پر ہونے والی جنگ بندی کے دوران دونوں اطراف سے معاہدے کی متعدد خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آئے تھے۔

امریکی قیادت میں جاری سفارتی کوششیں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث تعطل کا شکار ہیں۔ روس اور یوکرین کے مابین علاقوں کی تقسیم پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ روس ڈونیٹسک کے تمام علاقوں پر قبضے کا مطالبہ کر رہا ہے جسے کیف نے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ کسی مذاکرات کا نتیجہ نہیں ہے اور اس کا جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

گزشتہ چار برسوں سے جاری یہ تنازعہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کا مہلک ترین تصادم ثابت ہوا ہے جس میں لاکھوں افراد ہلاک اور کروڑوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں روس یوکرین کے تقریباً ۱۹ فیصد رقبے پر قابض ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago