ایران اور امریکہ کے مابین جوہری مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ واشنگٹن کا تہران سے ان کے تمام تر جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے کا مطالبہ قرار دیا گیا ہے۔ اس مطالبے میں شہری اور طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی جوہری سرگرمیاں بھی شامل ہیں جنہیں ترک کرنے پر امریکہ بضد ہے۔
الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ دس نکاتی فریم ورک میں جوہری عزائم سے مکمل دستبرداری شامل نہیں تھی۔ اس کے برعکس امریکی مطالبات کا تقاضا ہے کہ تہران طبی اور پرامن مقاصد کے لیے بھی جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق چھوڑ دے۔
ایرانی حکام اس تنازع کے دوران مسلسل اس موقف پر قائم رہے ہیں کہ سپریم لیڈر کی جانب سے جاری کردہ مذہبی فتویٰ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی ممانعت کرتا ہے۔
تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنیوا اور عمان میں ہونے والے مذاکرات کے ابتدائی ادوار میں پیش رفت ہوئی تھی اور دونوں فریقین کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین گہرا عدم اعتماد بھی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حالیہ پیش رفت اور بات چیت کے تعطل نے خطے میں امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…