چین نے تائیوان کے لیے دس نئے مراعاتی اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کا مقصد سیاحت میں نرمی، ٹی وی ڈراموں کی نمائش کی اجازت اور غذائی مصنوعات کی تجارت کو آسان بنانا ہے۔ یہ پیش رفت تائیوان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کومنٹانگ کی سربراہ چینگ لی وون کے دورہ چین کے اختتام پر سامنے آئی ہے۔
چینگ لی وون نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی جس میں امن اور مفاہمت کے قیام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق ان اقدامات میں کومنٹانگ اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے درمیان مستقل مواصلاتی نظام کا قیام، دونوں جانب پروازوں کی مکمل بحالی اور شنگھائی اور صوبہ فوزیان کے رہائشیوں کے لیے تائیوان کے دورے کی اجازت شامل ہے۔
غذائی اور ماہی گیری کی مصنوعات کے لیے معائنہ کے معیارات کو نرم کرنے کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا، تاہم اس کا انحصار تائیوان کی آزادی کی مخالفت کی سیاسی بنیاد پر ہوگا۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ تائیوان کے ٹی وی ڈرامے، دستاویزی فلمیں اور اینیمیشن مشروط طور پر دکھائے جا سکیں گے جن میں درست سمت، صحت مند مواد اور اعلیٰ معیار شامل ہو۔
تائیوان کی حکومت کی جانب سے فی الحال ان اعلانات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ چین تائیوان کے صدر لائی چنگ-تے سے بات چیت سے انکاری ہے اور انہیں علیحدگی پسند قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوانی صدر بیجنگ کے خودمختاری کے دعووں کو مسترد کرتے ہیں۔
کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے بعد سے چین اور تائیوان ایک دوسرے پر سیاحتی سرگرمیوں کی بحالی میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ تائیوان ماضی میں زرعی اور آبی مصنوعات پر چینی پابندیوں کے خلاف بھی شکایات درج کرا چکا ہے اور ان کا موقف ہے کہ چین کی جانب سے ان مصنوعات پر پابندیاں غیر منصفانہ بنیادوں پر لگائی گئی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…