اسپین کی بندرگاہ بارسلونا سے غزہ کے محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے جانے والے دوسرے فلوٹیلا کا سفر اتوار کو شروع ہونا تھا۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحت تقریباً تیس کشتیاں طبی امداد اور دیگر ضروری اشیاء لے کر روانہ ہو رہی ہیں جبکہ راستے میں مزید جہازوں کے اس قافلے میں شامل ہونے کی توقع ہے۔
اسرائیلی فوج نے گزشتہ برس اکتوبر میں اسی تنظیم کی جانب سے بھیجے گئے تقریباً چالیس جہازوں کو غزہ پہنچنے سے روک دیا تھا اور اس کارروائی کے دوران سویڈن کی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت ساڑھے چار سو سے زائد شرکاء کو حراست میں لے لیا تھا۔
اسرائیل غزہ کی پٹی تک رسائی کے تمام راستوں پر قابض ہے اور امدادی سامان روکنے کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔ تاہم فلسطینیوں اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں جنگ بندی کے معاہدے اور امداد بڑھانے کی یقین دہانیوں کے باوجود غزہ پہنچنے والا سامان ناکافی ہے۔
مشہور ٹیلی ویژن سیریز گیم آف تھرونز کے اداکار لیام کننگھم، جو اس مہم کی حمایت کر رہے ہیں، نے خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان جہازوں پر موجود ہر کلو امدادی سامان دراصل ان حکومتوں کی ناکامی کا ثبوت ہے جو اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کا موقف ہے کہ مسلح تنازعات کے دوران بھی بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ شہریوں کی طبی سہولیات تک محفوظ رسائی کو یقینی بنائیں۔
فلوٹیلا کی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن اور فلسطینی کارکن سیف ابوکشک نے بتایا کہ اس مشن کا بنیادی مقصد ایک انسانی راہداری کھولنا ہے تاکہ امدادی ادارے اپنا کام جاری رکھ سکیں۔
گزشتہ برس کے فلوٹیلا میں شامل سوئس اور ہسپانوی کارکنوں نے اسرائیلی حراست کے دوران غیر انسانی سلوک کا الزام عائد کیا تھا، تاہم اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…