ہنگری میں ہونے والے عام انتخابات میں سولہ برس تک اقتدار پر براجمان رہنے والے وزیر اعظم وکٹر اوربان کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اتوار کو ہونے والی پولنگ میں ووٹرز کی ریکارڈ تعداد نے یورپی یونین نواز پالیسیوں کے حامی سینٹر رائٹ رہنما پیٹر میگیار کی پارٹی ٹیزا کے حق میں ووٹ دیا، جس کے نتیجے میں اوربان کی قوم پرست جماعت فیڈز کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے۔
باسٹھ سالہ وکٹر اوربان، جو یورپی یونین میں سب سے طویل عرصے تک حکمران رہنے والے رہنما تھے، اپنی معاشی پالیسیوں اور جمہوریت کے حوالے سے متنازع اقدامات کے باعث عوام کا اعتماد کھو بیٹھے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق پیٹر میگیار کی جماعت پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے، جس کے بعد وہ اوربان کے دور میں کیے گئے متنازع اصلاحاتی قوانین کو تبدیل کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔
شکست تسلیم کرتے ہوئے وکٹر اوربان نے اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا کہ انتخابی نتائج کا ملکی مستقبل پر کیا اثر پڑے گا یہ وقت ہی بتائے گا، تاہم وہ اپوزیشن میں بیٹھ کر ملک و قوم کی خدمت جاری رکھیں گے۔
وکٹر اوربان نے 1998 میں پہلی بار وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا۔ 2010 میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں واپسی کے بعد انہوں نے آئین میں ترامیم کیں اور عدالتی آزادی و میڈیا پر قدغنیں لگائیں، جس پر یورپی یونین کے ساتھ ان کے شدید اختلافات پیدا ہوئے۔ یورپی یونین نے ہنگری کے لیے اربوں یورو کی امداد بھی معطل کر دی تھی۔
اپنے طویل دور اقتدار کے دوران اوربان نے روس کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے اور یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں یورپی یونین کی جانب سے کیو کو دی جانے والی امداد کی مخالفت کی۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اسے جنگ اور امن کا انتخاب قرار دیا تھا، تاہم ہنگری کے عوام نے مہنگائی، صحت اور معاشی جمود جیسے داخلی مسائل کو ترجیح دی۔
انتخابات سے قبل کی گئی رائے شماریوں میں نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دینے کا عندیہ دیا تھا۔ اوربان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت یورپ کے کئی دائیں بازو کے رہنماؤں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن ہنگری کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اور تین سال سے جاری معاشی جمود نے ان کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
وکٹر اوربان نے اپنی شکست کے قریب اعتراف کیا کہ طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے بعد اب ان کی قوتِ مدافعت جواب دے رہی ہے۔ 2014، 2018 اور 2022 میں کامیابیوں کا سفر طے کرنے والے اوربان اب ملک کی تاریخ میں ایک ایسے حکمران کے طور پر دیکھے جائیں گے جن کا دور اقتدار معاشی بحران اور یورپی یونین کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باعث اپنے منطقی انجام کو پہنچا۔
انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپن ریسرچ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سروے رپورٹ…
جنوبی لبنان کے گاؤں صریفہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم…
امریکی فوج نے مشرقی بحر الکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبہے…
ہنگری میں سولہ برس تک اقتدار پر براجمان رہنے والے قوم پرست رہنما وکٹر اوربان…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب سوشل میڈیا پر ایک طویل بیان جاری…
روس اور یوکرین کے درمیان آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر ہونے والی 32 گھنٹے کی…