ہنگری: 16 سالہ اقتدار کے بعد وکٹر اوربان کو شکست، پیٹر میگیار کی کامیابی

ہنگری میں سولہ برس تک اقتدار پر براجمان رہنے والے قوم پرست رہنما وکٹر اوربان کو عام انتخابات میں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اتوار کو ہونے والے انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پیٹر میگیار کی قیادت میں سینٹر رائٹ جماعت ٹیزا نے بھاری اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اس انتخابی نتیجے کو ہنگری کی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

انتخابی نتائج کے مطابق 199 نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ میں ٹیزا پارٹی 138 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ یہ تعداد دو تہائی اکثریت سے بھی زائد ہے جس کی بدولت پیٹر میگیار اب وکٹر اوربان کے دور میں کی گئی آئینی ترامیم کو تبدیل کرنے اور انسدادِ بدعنوانی کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔

بوداپست میں ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے 45 سالہ پیٹر میگیار نے کہا کہ ہم نے مل کر اوربان کے نظام کو شکست دی ہے اور ہنگری کو آزاد کروا لیا ہے۔ انہوں نے اپنے انتخابی مہم کے دوران عوام کو خبردار کیا تھا کہ اوربان کی برسلز کے ساتھ محاذ آرائی ملک کو یورپی دھارے سے دور کر رہی ہے۔

اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے 62 سالہ وکٹر اوربان نے کہا کہ انتخابی نتائج واضح اور تکلیف دہ ہیں۔ اوربان، جنہیں یورپ اور امریکہ میں قدامت پسند حلقوں کی حمایت حاصل رہی، کو معاشی جمود اور بین الاقوامی تنہائی کے باعث عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔

اس تبدیلی کے اثرات یورپی یونین، یوکرین اور روس کے ساتھ تعلقات پر گہرے مرتب ہوں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کی امداد کی راہ ہموار کرے گی جسے ماضی میں اوربان کی حکومت نے بلاک کر رکھا تھا۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیٹر میگیار کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ نئی قیادت کے ساتھ مل کر یورپ میں امن اور سلامتی کو مضبوط بنایا جائے گا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا کہ ہنگری نے یورپ کو منتخب کر لیا ہے۔

وکٹر اوربان کا اقتدار سے اخراج روس کے صدر ولادیمیر پوتین کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ وہ یورپی یونین میں پوتین کے قریبی اتحادی مانے جاتے تھے۔ اس سیاسی تبدیلی نے مغربی دنیا کے دائیں بازو کے حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جنہیں اوربان کی حمایت حاصل تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹر میگیار کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج حکومتی مشینری سے سابقہ حکومت کے وفاداروں کو ہٹانا اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہوگا۔ اگرچہ ہنگری کے یورپی دھارے میں شامل ہونے کی توقع ہے، تاہم تارکینِ وطن جیسے معاملات پر ہنگری کا موقف بدستور ایک چیلنج بنا رہ سکتا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago