مشرقی بحر الکاہل میں امریکی فوجی کارروائی، منشیات اسمگلنگ کے شبے میں 5 افراد ہلاک

امریکی فوج نے مشرقی بحر الکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبہے میں مزید پانچ افراد کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ امریکی سدرن کمانڈ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گیارہ اپریل کو دو کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص زندہ بچ گیا ہے۔ اس تازہ کارروائی کے بعد اس متنازع مہم کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 168 تک پہنچ گئی ہے۔

امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کشتیاں منشیات کی ترسیل کے معروف راستوں پر گامزن تھیں۔ سدرن کمانڈ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر فضائی فوٹیج جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پہلی کارروائی میں دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک شخص زندہ بچ گیا، دوسری کارروائی میں مزید تین افراد مارے گئے۔ تاہم امریکی فوج نے ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے۔

سدرن کمانڈ کے مطابق زندہ بچ جانے والے شخص کی تلاش اور اسے بچانے کے لیے امریکی کوسٹ گارڈ کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے، تاہم اس کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ جنرل فرانسس ایل ڈونوون کی زیر قیادت جوائنٹ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر نے ان کارروائیوں کو منشیات کے کارٹلز کے خلاف منظم حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ہے۔

امریکی فوج نے گزشتہ ستمبر سے کیریبین اور مشرقی بحر الکاہل میں مبینہ منشیات فروشوں کی کشتیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اب تک چھ مواقع پر کچھ افراد زندہ بچے ہیں جنہیں ریسکیو کرنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم کئی بار یہ تلاش ناکام رہی۔ اکتوبر کے ایک آپریشن میں دو افراد کو بحریہ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچا کر ایکواڈور اور کولمبیا منتقل کیا گیا تھا۔

اس مہم پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ستمبر میں ہونے والی پہلی کارروائی کے دوران دو افراد ابتدائی حملے میں بچ گئے تھے لیکن انہیں دوسرے حملے میں ہلاک کر دیا گیا، جس پر اسے جنگی جرم قرار دینے کے مطالبات سامنے آئے تھے۔ امریکی ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اس واقعے کی فوٹیج دیکھنے کے بعد سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا، جبکہ محکمہ دفاع کا موقف ہے کہ زندہ بچ جانے والوں کے پاس ہتھیار ہو سکتے تھے جس کے پیش نظر دوسرا حملہ ضروری تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ ان کارروائیوں کو منشیات کے خلاف جنگ کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے اور ان افراد کو غیر قانونی جنگجو قرار دے کر کارٹلز کے خلاف غیر بین الاقوامی مسلح تنازع کا حصہ مانتی ہے۔ اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی بھی شروع ہو چکی ہے اور ٹرینیڈاڈ کے دو شہریوں کے لواحقین نے امریکی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے جس میں ان ہلاکتوں کو بلا جواز اور سوچی سمجھی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

پنجاب میں مریم نواز کی قیادت پر عوامی اعتماد میں اضافہ، سروے رپورٹ جاری

انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپن ریسرچ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سروے رپورٹ…

1 گھنٹہ ago

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملہ، جنازے میں شریک ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق

جنوبی لبنان کے گاؤں صریفہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم…

1 گھنٹہ ago

ہنگری: 16 سالہ اقتدار کے بعد وکٹر اوربان کو شکست، پیٹر میگیار کی کامیابی

ہنگری میں سولہ برس تک اقتدار پر براجمان رہنے والے قوم پرست رہنما وکٹر اوربان…

2 گھنٹے ago

ہنگری: 16 سالہ اقتدار کے بعد وکٹر اوربان کو شکست، یورپی یونین نواز پیٹر میگیار کامیاب

ہنگری میں ہونے والے عام انتخابات میں سولہ برس تک اقتدار پر براجمان رہنے والے…

2 گھنٹے ago

ڈونلڈ ٹرمپ کی پوپ لیو پر کڑی تنقید، جرائم اور خارجہ پالیسی پر کمزور قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب سوشل میڈیا پر ایک طویل بیان جاری…

3 گھنٹے ago

یوکرین اور روس کے درمیان ایسٹر کے موقع پر ہونے والی جنگ بندی ختم

روس اور یوکرین کے درمیان آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر ہونے والی 32 گھنٹے کی…

3 گھنٹے ago