ہنگری: 16 سالہ اقتدار کے بعد وکٹر اوربان کو انتخابات میں شکست کا سامنا

ہنگری میں سولہ برس تک اقتدار میں رہنے والے قوم پرست رہنما وکٹر اوربان کو اتوار کے روز ہونے والے قومی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کی حکمرانی کا خاتمہ مرکز دائیں بازو کی نئی جماعت ٹیزا پارٹی کی کامیابی کے ساتھ ہوا ہے۔ اس تبدیلی کو روس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

باسٹھ سالہ وکٹر اوربان کو یورپ اور امریکہ میں قدامت پسند حلقوں میں غیر لبرل جمہوریت کے ماہر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ تاہم، ملک میں معاشی جمود، بین الاقوامی تنہائی اور چند بااثر افراد کی دولت میں تیزی سے اضافے کے باعث عوام ان کی پالیسیوں سے بیزار ہو چکے تھے۔

انتخابی نتائج کے مطابق ٹیزا پارٹی کے پینتالیس سالہ رہنما پیٹر میگیار نے ہنگری کی 199 نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر ٹیزا پارٹی کو 138 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں، جو کہ دو تہائی اکثریت سے بھی زیادہ ہے۔ یہ برتری پیٹر میگیار کو وکٹر اوربان کے آئینی ترامیم کے نظام کو بدلنے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے درکار اختیار فراہم کرے گی۔

بوڈاپیسٹ میں دریائے ڈینیوب کے کنارے اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے پیٹر میگیار نے کہا کہ ہم نے یہ کر دکھایا ہے، ٹیزا اور ہنگری نے یہ انتخاب جیت لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے مل کر اوربان کے نظام کو تبدیل کر دیا ہے اور ہنگری کو آزاد کروا لیا ہے۔

وکٹر اوربان نے اپنی انتخابی مہم کے دفتر میں شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج ہمارے لیے تکلیف دہ ہیں لیکن واضح ہیں۔ دوسری جانب یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین نے نتائج کے بعد کہا کہ ہنگری نے یورپ کا انتخاب کیا ہے اور یورپ نے ہمیشہ ہنگری کو اپنا سمجھا ہے۔

وکٹر اوربان کے اقتدار کا سورج غروب ہونے سے یورپی یونین، یوکرین اور دیگر عالمی طاقتوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ نئی حکومت یوکرین کے لیے نوے ارب یورو کے اس امدادی پیکج کی راہ ہموار کرے گی جسے اوربان نے بلاک کر رکھا تھا۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیٹر میگیار کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اوربان کی رخصتی سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو یورپی یونین میں اپنے سب سے اہم اتحادی سے محروم ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ یہ شکست مغربی دنیا کے دائیں بازو کے ان حلقوں کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے جو اوربان کی حمایت کرتے تھے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago