ایران کے جوہری پروگرام کو شدید دھچکا، تاہم صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی

امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں نے ایران کی جوہری اور بیلسٹک صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران کے ایٹمی ہتھیار بنانے کے راستے میں بڑی رکاوٹیں کھڑی ہو گئی ہیں۔ تاہم، سفارتی ذرائع اور ماہرین کے مطابق، ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ابھی بھی محفوظ ہے جو مستقبل میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں کلیدی حیثیت رکھے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ایٹمی بم بنانے کا الزام عائد کیا تھا، جس کی تہران نے ہمیشہ تردید کی ہے۔ ٹرمپ نے عزم ظاہر کر رکھا ہے کہ وہ ایران کو کبھی ایٹمی قوت نہیں بننے دیں گے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ اور موجودہ کارروائیوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

یورپی سفارتی ذرائع نے اس معاملے پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جون 2025 کے حملوں کے بعد پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ پروگرام کئی سال پیچھے چلا گیا ہے، تاہم بعد میں اس کا تخمینہ چند ماہ تک محدود کر دیا گیا تھا۔ ایک اسرائیلی سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ ایران اب پہلے کی طرح ایک تھریش ہولڈ پاور نہیں رہا، کیونکہ انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ اس کے ماہر سائنسدانوں اور ڈیٹا مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی کے اسپینسر فاراگاسو کے مطابق، اس تنازع نے ایران کے جوہری پروگرام کو نمایاں طور پر دھچکا پہنچایا ہے اور اسے دوبارہ بحال کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور وقت درکار ہوگا۔ تاہم، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کامیابی مستقل نہیں ہے۔

تہران کے پاس اب بھی 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کی بڑی مقدار موجود ہے، جو ایٹمی بم کے لیے درکار 90 فیصد سطح کے انتہائی قریب ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق، جون 2025 سے قبل ایران کے پاس 440 کلوگرام سے زائد 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود تھا۔ موجودہ صورتحال میں تہران نے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو متاثرہ مقامات تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے، جس پر ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کا تقریباً 220 کلوگرام افزودہ یورینیم اصفہان کی زیر زمین سرنگوں میں محفوظ ہو سکتا ہے، جبکہ باقی ماندہ حصہ فورڈو کے ملبے تلے دبا ہونے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے روس نے پیشکش کی ہے کہ وہ کسی بھی امن معاہدے کی صورت میں ایرانی یورینیم اپنے پاس رکھنے کو تیار ہے، تاہم یورپی ممالک نے یوکرین جنگ کے تناظر میں اسے مسترد کر دیا ہے۔ یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے ڈینی اوربیک کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کی افزودگی کی صلاحیت فی الحال ختم ہو چکی ہے، لیکن افزودہ مواد کا ذخیرہ اب بھی موجود ہے جو ایٹمی ہتھیار کے حصول میں سب سے مشکل مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ملک میں بجلی کا شارٹ فال 3500 میگاواٹ سے تجاوز، لوڈشیڈنگ کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر

پاکستان بھر میں بجلی کے بحران نے شدت اختیار کر لی ہے اور نیشنل گرڈ…

2 منٹس ago

سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی مالی معاونت آئندہ ہفتے موصول ہونے کا امکان

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے تین ارب…

7 منٹس ago

مذاکرات کی امید کے باوجود امریکا نے ایران کی سمندری تجارت مکمل طور پر بند کر دی

امریکہ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے سمندری…

12 منٹس ago

بھارت: چھتیس گڑھ میں ویدانتا پلانٹ دھماکے سے 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں ویدانتا لمیٹڈ کے پاور پلانٹ میں بوائلر پھٹنے سے…

1 گھنٹہ ago

امریکہ ایران کے ساتھ ‘گرینڈ بارگین’ کے حصول کے لیے کوشاں ہے، جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک…

1 گھنٹہ ago

انڈمان سمندر میں روہنگیا پناہ گزینوں کی کشتی الٹ گئی، 250 افراد لاپتہ ہونے کا خدشہ

انڈمان کے سمندر میں روہنگیا مہاجرین اور بنگلہ دیشی شہریوں سے بھری کشتی الٹنے کے…

2 گھنٹے ago