امریکہ نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے سمندری راستوں سے ایران کی تمام تر تجارتی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی بحالی کا عندیہ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ دو روز کے اندر پاکستان میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات کی قیادت کی تھی، نے بھی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ دو دن انتہائی اہم دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے 21 اپریل کو ختم ہونے والی دو ہفتہ وار جنگ بندی میں توسیع کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہشمند ہیں تاکہ ملک کی تعمیر نو کی جا سکے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں تصدیق کی کہ ناکہ بندی کے 36 گھنٹوں کے اندر ہی امریکی افواج نے ایران کی سمندری تجارت کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ ایران کی 90 فیصد معیشت اسی سمندری تجارت پر منحصر ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پیر سے اب تک آٹھ ایرانی آئل ٹینکرز کو روکا جا چکا ہے۔ اس ناکہ بندی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سفارتی رابطوں کی بحالی کی امید ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ان کی کاوشوں کی بدولت ہی مذاکرات کی بحالی ممکن ہو سکی ہے۔ جے ڈی وینس نے البتہ خبردار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پایا جانے والا عدم اعتماد راتوں رات ختم نہیں ہو سکتا۔
مذاکرات میں اہم رکاوٹ ایران کے جوہری عزائم ہیں۔ امریکہ ایران سے تمام جوہری سرگرمیاں 20 برس کے لیے معطل کروانا چاہتا ہے جبکہ تہران نے تین سے پانچ برس کی مدت تجویز کی ہے۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ جوہری افزودگی پر پابندی کا فیصلہ سیاسی نوعیت کا ہے اور سمجھوتہ ممکن ہے۔
کشیدگی کے باوجود ایک اہم پیچیدگی اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری کارروائی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ کارروائی جنگ بندی کے دائرہ کار میں نہیں آتی، جبکہ ایران اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ اب تک کی لڑائی میں تقریباً 5 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں 3 ہزار کا تعلق ایران اور 2 ہزار کا لبنان سے ہے۔ اس دوران برطانیہ، کینیڈا اور جاپان سمیت دس ممالک نے لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
