امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں یا اگلے ہفتے ختم ہونے والی جنگ بندی میں توسیع نہ ہو سکی تو امریکا تہران پر اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کرے گا۔
وائٹ ہاؤس میں بریفنگ دیتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے عالمی تیل کی آمدنی اور مالیاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اسے عسکری کارروائی کے مالیاتی متبادل سے تعبیر کیا۔
نئی مجوزہ پابندیوں کے تحت ان غیر ملکی اداروں اور ممالک کے خلاف ثانوی پابندیاں عائد کی جائیں گی جو ایرانی شخصیات، کمپنیوں یا جہازوں کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں۔ اس دائرہ کار میں متحدہ عرب امارات اور چین جیسے ممالک میں موجود ادارے بھی شامل ہوں گے۔
امریکی وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ واشنگٹن پہلے ہی دیگر حکومتوں اور کمپنیوں کو ایرانی تیل کی خریداری یا بینکنگ نظام میں ایرانی رقوم رکھنے سے منع کر چکا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر یہ سرگرمیاں جاری رہیں تو امریکا انتہائی سخت اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اگر کوئی ایرانی تیل خرید رہا ہے یا ان کے بینکوں میں ایرانی پیسہ موجود ہے تو ہم ان پر ثانوی پابندیاں لاگو کریں گے۔ انہوں نے ایرانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ اقدام ان عسکری کارروائیوں کے مساوی ہوگا جو ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ تنازع کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کر رہی ہے۔ تاحال یہ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کہ آیا آنے والے دنوں میں جنگ بندی میں توسیع ہو سکے گی یا کوئی وسیع تر معاہدہ طے پا سکے گا۔
لبنان نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے سے لاعلمی کا اظہار کر…
پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پختونخوا ہائی ویز کونسل…
آزاد کشمیر پولیس نے جمعرات کے روز ایک بڑی کارروائی کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی…
برطانیہ کی معیشت نے فروری کے مہینے میں غیر متوقع طور پر ترقی کی رفتار…
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت پختونخوا ہائی ویز کونسل کا…
امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے دوسرے بڑے آئل ٹینکر نے آبنائے ہرمز کے…