پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ تہران عالمی برادری کے سامنے واضح کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کسی بھی صورت اضافی مطالبات یا غیر منصفانہ شرائط تسلیم نہیں کرے گا۔
ایک نجی انٹرویو کے دوران ایرانی سفیر نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے دور میں تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں اور فریقین کسی حتمی نتیجے تک پہنچ سکتے تھے۔ تاہم ماضی کی طرح اس بار بھی امریکی وفد نے مذاکرات کو ادھورا چھوڑ دیا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ بظاہر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی منظوری کے بغیر فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
رضا امیری مقدم نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ جو اہداف وہ مذاکرات کے ذریعے حاصل نہیں کر سکے، وہ انہیں جنگ سے بھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران مستقبل میں بھی سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے تمام پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایران کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران نے ماضی میں بھی لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی مذاکرات کے اگلے دور کے لیے نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…