نئی دہلی میں بھارتی حکومت نے لوک سبھا میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے پارلیمنٹ کی نشستوں میں چالیس فیصد تک اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکمران جماعت کے سیاسی مفادات کا حصہ قرار دیا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس سے قبل اپنے بیان میں کہا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تاریخی اقدامات کر رہی ہے۔ مجوزہ بل کے تحت 2023 کے قانون پر عملدرآمد کو تیز کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی کل نشستوں کی تعداد 800 سے تجاوز کرنے اور خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں خواتین کی موجودہ نمائندگی کل 543 نشستوں میں سے صرف 14 فیصد ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے دعویٰ کیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں خواتین کو ان کا جائز مقام دینے پر متفق ہیں۔
تاہم، اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ حکومت آبادی کی بنیاد پر انتخابی حلقہ بندیوں کو تبدیل کر کے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھانا چاہتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شمالی بھارت میں زیادہ آبادی کے باعث حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا، جبکہ جنوبی ریاستوں کی نمائندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ان کی جماعت خواتین کے لیے نشستیں مختص کرنے کی حمایت کرتی ہے، لیکن موجودہ حکومتی منصوبہ خواتین کے حقوق کے بجائے حلقہ بندیوں کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش ہے۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے بھی اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے فسطائی سوچ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام جنوبی ریاستوں کو پسماندہ کرنے کی سازش ہے۔
اس آئینی ترمیم کو منظور کروانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے، جس پر پارلیمنٹ میں تین روزہ بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ حکومت کی تجویز ہے کہ نئی حلقہ بندیاں 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر کی جائیں اور ان کا اطلاق 2029 کے عام انتخابات سے ہو۔ دوسری جانب اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ اس عمل کو موجودہ مردم شماری کے نتائج تک مؤخر کیا جائے۔
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر…
لاہور میں آوارہ کتوں کو بے دردی سے مارنے کے واقعات اور شہریوں پر کتے…
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان دس روزہ جنگ…
اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے کاروباری اوقات کار کے حوالے سے نئی پالیسی کا…
وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب اور قطر کے کامیاب دوروں کے بعد اپنے تین…
وزیر اعظم شہباز شریف اپنے تین ملکی دورے کے آخری مرحلے میں ترکیہ پہنچ گئے…