جنیوا میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان بابر بلوچ نے پریس بریفنگ کے دوران انکشاف کیا ہے کہ سن 2025 روہنگیا مہاجرین کے لیے سمندری راستے پر سفر کے لحاظ سے تاریخ کا مہلک ترین سال ثابت ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس بحیرہ انڈمان اور خلیج بنگال میں تقریباً 900 روہنگیا مہاجرین لاپتہ یا ہلاک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کل 6500 روہنگیا مہاجرین نے سمندری راستے سے نقل مکانی کی کوشش کی تھی، جن میں سے ہر سات میں سے ایک سے زائد فرد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا یا لاپتہ ہو گیا۔ یہ شرح دنیا بھر میں پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے سمندری سفر کے دوران ہونے والی ہلاکتوں میں سب سے زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور ان خطرناک سفروں کے دوران ہونے والی اموات کی بلند شرح نے انسانی حقوق کے سنگین بحران کو اجاگر کر دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…