میانمار کی فوجی حکومت نے قید میں موجود سابق رہنما آنگ سان سوچی کی سزا میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے وکیل نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو تصدیق کی ہے کہ اسی برس کی سوچی کی سزا میں ایک چھٹا حصہ کم کر دیا گیا ہے۔
آنگ سان سوچی پر اکسانے، بدعنوانی، انتخابی دھاندلی اور سرکاری رازوں کے قوانین کی خلاف ورزی سمیت متعدد الزامات کے تحت ستائیس برس قید کی سزا عائد کی گئی تھی۔ ان کے حامیوں کا موقف ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی انتقام پر مبنی ہیں جن کا مقصد انہیں اقتدار کی دوڑ سے باہر رکھنا ہے۔
سزا میں کمی کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ نوبل انعام یافتہ رہنما کو باقی ماندہ سزا گھر میں نظر بندی کے دوران گزارنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔
سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق میانمار کے صدر من آنگ ہلینگ نے چار ہزار تین سو پینتیس قیدیوں کی رہائی کے لیے عام معافی کی منظوری دی ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران یہ تیسرا موقع ہے جب ملک میں قیدیوں کی سزا میں کمی یا رہائی کا اعلان کیا گیا ہے۔
فوجی حمایت یافتہ حکومت کے ترجمان کی جانب سے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ من آنگ ہلینگ نے دو ہزار اکیس میں آنگ سان سوچی کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد سے ملک شدید بحران کا شکار ہے۔ من آنگ ہلینگ تین اپریل کو صدر منتخب ہوئے تھے، تاہم بین الاقوامی مبصرین نے ان انتخابات کو غیر شفاف اور غیر منصفانہ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
ویلز کے تاریخی پیمبروک کیسل کے نیچے دریافت ہونے والی ایک قدیم غار اور اس…
لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نکاح نامے میں…
پاکستان میں بجلی کا شارٹ فال تین ہزار میگاواٹ سے کم ہونے کے باوجود ملک…
ایرانی وزیر خارجہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو تمام…
اسٹٹگارٹ اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں سرفہرست کھلاڑیوں کا شاندار سفر جاری ہے۔ جمعرات کے روز…
لبنانی تنظیم حزب اللہ نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ بندی…